حیدرآباد: کاماریڈی پولیس نے ایک خاتون سمیت تین افراد کی Women Gangگرفتار کیا ہے جو لفٹ کے بہانے لوگوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ پولیس کے مطابق ان ملزمین نے دیگر اضلاع میں بھی اسی طریقہ کار کے تحت وارداتیں انجام دی ہیں۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چیتنیا ریڈی کے مطابق یہ واقعہ 19 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب دومکنڈہ منڈل کے چندمنو پلی گاؤں سے تعلق رکھنے والے سرل چنّا گنگیا کام کے بعد کاماریڈی سے واپس جا رہے تھے۔ ایک خاتون نے مقامی آپٹیشن کی دکان کے قریب ان سے کیاسم پلی تک لفٹ دینے کی درخواست کی۔
گنگیا نے اس درخواست کو قبول کیا اور خاتون کو گاڑی میں بٹھا کر نواب وینچر کے قریب لے گئے جہاں اُس نے گاڑی روکنے کو کہا۔ اسی وقت دو مرد وہاں نمودار ہوئے، جنہوں نے گنگیا کو دھمکاتے ہوئے 28,000 روپئے نقد چھین لیے اور فرار ہو گئے۔
متاثرہ شخص کی شکایت پر سی آئی نرہری، سی سی ایس انسپکٹر سرینواس اور سب انسپکٹر عثمان کی قیادت میں پولیس ٹیموں نے سی سی ٹی وی نگرانی اور تکنیکی تجزیہ کے ذریعہ ملزمین کا پتہ لگایا اور انہیں گرفتار کر لیا۔
تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ تینوں — کدمنچی لکشمی عرف حمید بی (ساکن مرری گوڑم، پلوانچہ)، شیخ جاوید اور شیخ ابّو (ساکن نرسناپلی) — پہلے بھی میڈچل اور دیونی پلی پولیس حدود میں اسی طریقے سے وارداتیں کر چکے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ یہ افراد کاماریڈی کے شبیر علی کالونی میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے قبضے سے 14,770 روپئے نقد، ایک موٹر سائیکل اور تین موبائل فون برآمد کیے گئے۔ پولیس نے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ دیگر متاثرین یا وارداتوں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
