حیدرآباد: بی جے پی کی لیڈر اور حیدرآباد لوک سبھا انچارج مادھوی لتا نے گوشہ محل کے رکن اسمبلی راجا سنگھ پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے پارٹی میں کردار اور عوامی بیانات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ Madhavi Latha Raja Singh معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ راجا سنگھ بی جے پی کا نام استعمال کرتے ہوئے خواتین اور اقلیتی برادریوں کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے مادھوی لتا نے کہا کہ راجا سنگھ، جو پہلے ایک کارپوریٹر رہ چکے ہیں، جب پارٹی نے انہیں ایم ایل اے بنایا تو انہیں بی جے پی کو بدنام کرنے کا کوئی حق نہیں رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا: “کیا یہی ہندوتوا ہے کہ خواتین اور دیگر مذاہب کے افراد کو گالیاں دی جائیں؟”
انہوں نے اپنی حیدرآباد پارلیمانی انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے اندر سے تعاون نہ ملنے پر ناراضی ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ راجا سنگھ نے ان کی حمایت نہیں کی۔ مادھوی لتا نے کہا کہ راجا سنگھ نے ان کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کو مرد امیدوار نہیں ملا، اس لیے مجھے کھڑا کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوشہ محل اسمبلی حلقے میں انہیں راجا سنگھ سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔
مادھوی لتا نے واضح کیا کہ وہ کمزور امیدوار نہیں ہیں اور اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ پارٹی قیادت گوشہ محل میں انہیں متبادل امیدوار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی حکم دے تو وہ جوبلی ہلز یا گوشہ محل، کسی بھی حلقے سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے بی جے پی کو تلنگانہ میں مضبوط پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر نظم و ضبط اور احترام کی فضا قائم رکھنا ضروری ہے، تاکہ عوام میں مثبت پیغام جائے۔
