آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملے، مذاکرات جاری | Hormuz Conflict Talks
حیدرآباد:۔ امریکہ نے وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر محدود حملے کیے۔ تاہم، یہ کارروائی وسیع فوجی تصادم میں تبدیل نہیں ہوئی۔ دوسری جانب، ثالثوں کے ذریعے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، مذاکرات میں اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔
امریکی حکام نے جزیرہ قشم پر حملوں کو دفاعی اور محدود کارروائی قرار دیا۔ ان کے مطابق، ایرانی فورسز نے امریکی اثاثوں پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے تھے۔ ان واقعات میں ایک امریکی طیارے سے متعلق واقعہ بھی شامل تھا۔ مزید برآں، ایک میزائل داغے جانے کی اطلاع ملی، جس سے بحری جہازوں کو خطرہ لاحق ہوا۔
آبنائے ہرمز کے قریب امریکی کارروائی، جنگ میں توسیع نہیں | Hormuz Conflict Talks
ایرانی سرکاری میڈیا نے جزیرہ قشم اور قریبی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاع دی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کارروائی کی تصدیق کی۔ انہوں نے اسے امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات کا جواب قرار دیا۔
امریکی حکام نے واضح کیا کہ یہ کارروائی بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ نہیں ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی جارحیت مکمل طور پر ختم ہونے تک تہران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
وسط مدتی انتخابات ختم ہونے کے بعد کئی گھنٹوں تک کسی بڑے نئے حملے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ یوں، خطے میں فوجی کشیدگی محدود سطح پر برقرار رہی۔
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرائط | Hormuz Conflict Talks
آبنائے ہرمز بدستور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا بنیادی مرکز ہے۔ ایران نے اس آبی راستے کو دوبارہ کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کئی شرائط پیش کی ہیں۔
ان مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔ ایران تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کررہا ہے۔ اس کے علاوہ منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور مستقبل میں فوجی کارروائی نہ ہونے کی ضمانت بھی چاہتا ہے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سینئر عہدیدار محسن رضائی سمیت کئی رہنماؤں نے امریکی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ بڑے حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ بھرپور جواب دے گا۔
ایرانی تیل کی برآمدات بدستور سخت پابندیوں کی زد میں ہیں۔ تاہم، خلیجی خطے کے دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک اور عراق سے ترسیل جاری ہے۔ امریکی بحری تحفظ میں یہ ترسیل جاری رکھی گئی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ مہنگائی منگل کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والے معاشی عوامل میں شامل رہی۔
ثالثی کی کوششیں اور واشنگٹن کی نئی سیاسی صورت حال | Hormuz Conflict Talks
سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔ قطر نے دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں سہولت فراہم کی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مذاکرات کے ذریعے معاہدے کے امکانات پر امید ظاہر کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے بڑے نئے فوجی آپریشن کے لیے جلد بازی نہ کرنے کا بھی اشارہ دیا۔ تاہم، انہوں نے فوجی کارروائی کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
انتخابات سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ نے متبادل منصوبے تیار کیے تھے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے تو مزید سخت فوجی کارروائی کے امکانات پر غور کیا جانا تھا۔
اب ڈیموکریٹس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ اس سیاسی تبدیلی سے ایران کے معاملے پر انتظامیہ کے فیصلوں کی جانچ بڑھ سکتی ہے۔ مزید برآں، کانگریس تحقیقات شروع کرسکتی ہے۔ فوجی کارروائی کے لیے فنڈز اور اجازت کے معاملات بھی زیادہ سخت نگرانی میں آسکتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ ایک الگ انتظام کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت موجودہ سال کے بعد سالانہ امریکی مالی امداد ختم ہوجائے گی۔ تاہم، ہتھیاروں کی فروخت جاری رہے گی۔
ایرانی معیشت پر پابندیوں اور ناکہ بندی کا دباؤ | Hormuz Conflict Talks
امریکی ناکہ بندی اور پابندیاں ایرانی معیشت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے موجودہ دور کو 1979 کے انقلاب کے بعد مشکل ترین ادوار میں سے ایک قرار دیا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ جوہری مذاکرات اسی وقت شروع ہوسکتے ہیں جب اس کی بنیادی شرائط پوری ہوں۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کے پاس جواب دینے کے مختلف راستے موجود ہیں۔ تاہم، حالیہ محدود حملوں سے مذاکرات میں بنیادی اختلافات تبدیل نہیں ہوئے۔
5 نومبر کے اوائل تک صورت حال محدود فوجی کارروائیوں اور جاری ثالثی کے درمیان برقرار ہے۔ ثالثوں کے مطابق، دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اب بھی نمایاں ہیں۔ اس کے باوجود ایسا سمجھوتہ ممکن قرار دیا جارہا ہے جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور فوجی کشیدگی کم کرے۔
واشنگٹن میں وسط مدتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورت حال بھی اہم ہے۔ اب کانگریس کسی بھی فوجی توسیع یا امن معاہدے کے فیصلے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں عالمی توانائی منڈیوں کو خطرات برقرار رہیں گے۔ خلیجی بنیادی ڈھانچے اور علاقائی استحکام کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب، قابل عمل معاہدے کے لیے بحری ناکہ بندی، تیل کی پابندیوں اور سلامتی کی ضمانتوں پر سمجھوتہ ضروری ہوگا۔ تاہم، اب تک ان معاملات پر اتفاق رائے حاصل نہیں ہوسکا ہے۔
