راجیشور ریڈی راجیشور ریڈی کا آبپاشی پالیسی پر طنز| Irrigation Policy Row
حیدرآباد:۔ بی آر ایس رکن اسمبلی پلا راجیشور ریڈی نے کانگریس کی آبپاشی پالیسی پر طنز کیا۔ انہوں نے تلنگانہ بھون میں بی آر ایس کی فرضی اسمبلی میں یہ تنقید کی۔ انہوں نے فرضی اجلاس میں آبپاشی وزیر کا کردار ادا کیا۔
راجیشور ریڈی نے کہا کہ حکومت بینک چیکس سمجھتی ہے۔ تاہم، وہ کیوسکس نہیں سمجھتی۔ اس طنزیہ جملے کے ذریعے انہوں نے آبپاشی امور پر حکومت کو نشانہ بنایا۔
مزید برآں، راجیشور ریڈی نے کالیشورم منصوبے کی مرمت کے معاملے پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کالیشورم کی مرمت نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق، مرمت سے سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راو کو کریڈٹ مل سکتا ہے۔
کالیشورم اور میڈی گڈہ کی مرمت پر طنز | Irrigation Policy Row
راجیشور ریڈی نے کہا کہ حکومت میڈی گڈہ بیراج کی مرمت بھی نہیں کرے گی۔ فرضی اسمبلی سے پہلے انہوں نے کہا کہ انہوں نے موضوع تیار نہیں کیا۔ اس کے بجائے، انہوں نے مشیر آدتیہ ناتھ داس کے مشورے پر بولنے کی بات کہی۔
راجیشور ریڈی نے اپنے فوجی تجربے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی تجربے نے انہیں نظم و ضبط سکھایا۔ تاہم، انہوں نے چیف منسٹر کے اثر پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے اثر سے گالیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ اس کے بعد، راجیشور ریڈی نے تممڈی ہٹی منصوبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے منصوبے میں طویل تاخیر پر حکومت کو نشانہ بنایا۔
تممڈی ہٹی منصوبے اور پانی اجلاسوں پر سوال | Irrigation Policy Row
راجیشور ریڈی کے مطابق، حکومت نے تممڈی ہٹی منصوبے کی منصوبہ بندی 2004 میں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا نے اس وقت اجازت نہیں دی۔ ان کے مطابق، وہاں بھی اسی جماعت کی حکومت تھی۔
اب حکومت ایک دہائی کی تاخیر کے بعد منصوبہ تعمیر کرے گی۔ راجیشور ریڈی نے پانی کے انتظام سے متعلق اجلاسوں پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کے آر ایم بی اور جی آر ایم بی اجلاسوں کا حوالہ دیا۔
راجیشور ریڈی نے کہا کہ وہ مشیر آدتیہ ناتھ داس کے کہنے پر دستخط کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے سی ڈبلیو سی اجلاس کو کانگریس اجلاس سمجھ لیا تھا۔ اسی دوران، انہوں نے چندرا بابو نائیڈو پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔
راجیشور ریڈی نے دعویٰ کیا کہ چندرا بابو نائیڈو نے کانگریس کو اقتدار میں مدد دی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کانگریس کو نائیڈو کا قرض واپس نہیں کرنا چاہیے۔ مزید برآں، انہوں نے کمیشن کے الزامات کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کرناٹک میں 40 فیصد اور تلنگانہ میں 30 فیصد کمیشن کے الزامات کا ذکر کیا۔ راجیشور ریڈی نے دونوں اعداد کے فرق پر طنزیہ سوال اٹھایا۔ تاہم، انہوں نے اپنے دعوے کی مزید تفصیل نہیں دی۔
آخر میں، راجیشور ریڈی نے کانگریس کو خاندانی اتحاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے لیے سونیا گاندھی کا سرٹیفکیٹ کافی ہے۔ یوں، فرضی اسمبلی میں انہوں نے کانگریس کی آبپاشی پالیسی پر طنز کیا۔
