جی ایچ ایم سی کی مچھر کنٹرول مہم | Mosquito Prevention
حیدرآباد:۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی اینٹومولوجی ٹیموں نے شہر بھر میں آگاہی پروگرام منعقد کیے۔ مزید برآں، ٹیموں نے مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے اینٹی لاروا کارروائیاں بھی انجام دیں۔
جی ایچ ایم سی نے شہریوں سے ہر ہفتے کم از کم 10 منٹ نکالنے کی اپیل کی۔ اس دوران گھروں اور اطراف میں جمع پانی کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یوں مچھروں کی افزائش کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
شہریوں کو ہدایت دی گئی کہ برتنوں سے جمع پانی فوری نکالیں۔ اس کے علاوہ، گملوں، پرانے ٹائروں اور دیگر غیر استعمال شدہ اشیا میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔
جمع پانی ختم کرنے پر زور | Mosquito Prevention
جی ایچ ایم سی نے کہا کہ پانی ذخیرہ کرنے والے برتن ہمیشہ ڈھکن سے بند رکھیں۔ لہٰذا، مچھروں کو افزائش کے لیے مناسب جگہ نہیں ملے گی۔
ادارے نے واضح کیا کہ گھریلو سطح پر چھوٹے اقدامات مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ہر گھر باقاعدگی سے ایسے مقامات کا معائنہ کرے جہاں پانی جمع ہو سکتا ہے۔
شہریوں کو اپنے گھروں اور اطراف کی صفائی برقرار رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ یوں ماحول صاف رہے گا اور مچھروں کی تعداد کم ہوگی۔
اینٹی لاروا کارروائیاں جاری | Mosquito Prevention
اسی دوران، اینٹومولوجی ٹیموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھیں۔ ٹیموں نے آگاہی مہم کے ساتھ اینٹی لاروا اقدامات بھی کیے۔
ان کارروائیوں کا مقصد مچھروں کی افزائش روکنا تھا۔ اس کے علاوہ، مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات کم کرنے پر بھی توجہ دی گئی۔
جی ایچ ایم سی نے شہریوں کو مچھر بھگانے والی مصنوعات استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ مزید برآں، ضرورت پڑنے پر مکمل جسم ڈھانپنے والے کپڑے پہننے کی بھی ہدایت دی گئی۔
عوامی تعاون کو کامیابی کی بنیاد قرار | Mosquito Prevention
جی ایچ ایم سی نے کہا کہ شہریوں کا تعاون اس مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ لہٰذا، ہر خاندان اپنے گھر کے اطراف باقاعدگی سے صفائی کرے۔
ادارے نے خاص طور پر غیر استعمال شدہ برتنوں، گملوں اور ٹائروں پر توجہ دینے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ، بارش یا ذخیرہ شدہ پانی جمع ہونے والی دوسری جگہوں کا بھی مسلسل معائنہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
جی ایچ ایم سی نے کہا کہ عوامی تعاون اور فیلڈ کارروائیاں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ یوں شہر بھر میں مچھروں کی افزائش کم ہوگی۔ مزید برآں، مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
