قطب شاہی مقبروں سے مشتبہ زیر زمین راستہ | Qutb Shahi Digging
حیدرآباد:۔ گولکنڈہ میں واقع 400 سال پرانے قطب شاہی مقبروں کے احاطے میں مبینہ غیر قانونی کھدائی کے بعد ایک مشتبہ زیرزمین راستہ سامنے آیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مزید برآں، آثار قدیمہ کے حکام کو بھی اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے قطب شاہی مقبروں کے احاطے میں کھدائی کی۔ یہ کھدائی کھیل کے میدان کے قریب کی گئی۔ اسی دوران زمین کے نیچے موجود ایک راستہ نمایاں ہو گیا۔
اس واقعے کے بعد تاریخی مقام پر غیر مجاز کھدائی پر تشویش پیدا ہوئی۔ اس کے علاوہ گولکنڈہ کے زیرزمین راستوں سے متعلق پرانے دعوے بھی دوبارہ زیر بحث آ گئے۔
پولیس اور آثار قدیمہ کی تحقیقات جاری | Qutb Shahi Digging
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی ہدایت پر کاروان کے رکن اسمبلی کوثر محی الدین نے آثار قدیمہ کے حکام کو اطلاع دی۔ بعد ازاں پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔
تحقیقاتی ٹیم یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کھدائی کس نے کی۔ مزید برآں، اس کھدائی کا مقصد بھی معلوم کیا جا رہا ہے۔
پولیس کھیل کے میدان کے قریب ظاہر ہونے والے زیرزمین راستے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکام اس راستے کی نوعیت اور تاریخی حیثیت پر بھی غور کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ تاریخی قطب شاہی مقبروں کے احاطے میں پیش آیا۔ لہٰذا معاملے نے عوام اور متعلقہ اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
زیرزمین راستے پر قیاس آرائیاں | Qutb Shahi Digging
زیرزمین راستہ سامنے آنے کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ مزید برآں، گولکنڈہ اور چارمینار کے درمیان مبینہ خفیہ سرنگ کے پرانے دعووں کا بھی دوبارہ ذکر ہونے لگا۔
تاہم اب تک کسی سرکاری ادارے نے یہ تصدیق نہیں کی کہ سامنے آنے والا راستہ گولکنڈہ سے چارمینار تک جاتا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں کوئی باضابطہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ مشتبہ راستہ کہاں تک جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے تاریخی مقصد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع | Qutb Shahi Digging
پولیس نے غیر قانونی کھدائی میں ملوث افراد کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ مزید برآں، ان کے ممکنہ مقصد کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔
آثار قدیمہ کے حکام بھی معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران تحقیقاتی ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ یوں تحقیقات دو پہلوؤں پر جاری ہیں۔
ایک جانب غیر قانونی کھدائی کی حقیقت معلوم کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب زیرزمین راستے کی اصل نوعیت اور تاریخی اہمیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
