خواتین کو ’رینٹ بوائے فرینڈ‘ فراڈ سے کیا گیا خبردار | Online Companion Scam
حیدرآباد:۔ حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے خواتین کو نئے سائبر فراڈ سے خبردار کیا ہے۔ یہ فراڈ سوشل میڈیا پر ’رینٹ بوائے فرینڈ‘ کے نام سے چلایا جارہا ہے۔ سائبر فراڈ کرنے والے خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ انسٹاگرام، ٹیلی گرام اور فیس بک کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔
فراڈ کرنے والے کافی ملاقات اور فلم ڈیٹ کی پیشکش کرتے ہیں۔ وہ ساتھ خریداری اور تقریبات میں شرکت کی خدمات بھی بتاتے ہیں۔ بعض اشتہارات میں یکم اگست کی خصوصی رعایت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایسے اشتہارات میں ذاتی ساتھی فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جعلی پیشکشوں کا جال | Online Companion Scam
اشتہارات میں ایک گھنٹے کی کافی ملاقات کی قیمت ₹499 بتائی گئی ہے۔ فلم ڈیٹ کے لیے ₹1,249 کی فیس مقرر کی گئی ہے۔ خریداری کے ساتھ دینے کی فیس ₹1,499 بتائی گئی ہے۔ تقریب اور شادی میں ساتھ دینے کی فیس ₹1,999 رکھی گئی ہے۔
10 گھنٹے کے مکمل دن کے پیکیج کی قیمت ₹4,499 بتائی گئی ہے۔ فراڈ کرنے والے رازداری اور تحفظ کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں۔ بکنگ کے لیے صارفین سے براہ راست پیغام بھیجنے کو کہا جاتا ہے۔ اسی رابطے کے ذریعے متاثرین کو فراڈ کے اگلے مرحلے میں لے جایا جاتا ہے۔
سائبر فراڈ کرنے والے جعلی پروفائل تصاویر استعمال کرتے ہیں۔ کئی تصاویر مصنوعی ذہانت سے تیار کی جاتی ہیں۔ بعض تصاویر انٹرنیٹ سے حاصل کرکے پروفائل پر لگائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد خواتین سے دوستانہ انداز میں بات چیت شروع کی جاتی ہے۔
فراڈ کرنے والے پہلے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ نرم اور دوستانہ پیغامات کے ذریعے تعلق مضبوط کرتے ہیں۔ بعد میں بکنگ کی تصدیق کے لیے رقم مانگی جاتی ہے۔ بعض معاملات میں سکیورٹی ڈپازٹ یا پیشگی ادائیگی طلب کی جاتی ہے۔
رقم لینے کے بعد متاثرین کو بلاک کردیا جاتا ہے | Online Companion Scam
فراڈ کرنے والے ڈیجیٹل والٹس اور کیو آر کوڈز کے ذریعے رقم وصول کرتے ہیں۔ رقم ملنے کے بعد وہ متاثرین سے رابطہ ختم کردیتے ہیں۔ کئی معاملات میں متاثرہ شخص کو فوراً بلاک کردیا جاتا ہے۔ اس طرح صارف رقم گنوا کر فراڈ کرنے والے تک رسائی بھی کھو دیتا ہے۔
پولیس نے خواتین کو نامعلوم افراد سے ملاقات کے خلاف خبردار کیا ہے۔ صرف آن لائن گفتگو کی بنیاد پر کسی شخص پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی ملاقاتیں مزید خطرات پیدا کرسکتی ہیں۔ فراڈ کرنے والے جھوٹی رفاقت کا وعدہ کرکے خواتین کو پھانس سکتے ہیں۔
سائبر فراڈ کرنے والے گفتگو کے دوران ذاتی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ فون نمبر اور ذاتی تصاویر بھی جمع کرسکتے ہیں۔ بعد میں یہی معلومات دھمکی یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا خواتین کو ایسے نامعلوم رابطوں سے محتاط رہنا چاہیے۔
حیدرآباد سائبر کرائم ڈویژن نے ان جعلی اشتہارات کا نوٹس لیا ہے۔ پولیس نے ذمہ دار افراد کی شناخت کے لیے کارروائی شروع کرنے کی بات کہی ہے۔ تحقیقات کے بعد ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے شہریوں سے ایسے اشتہارات کی اطلاع دینے کی بھی اپیل کی ہے۔
والدین بھی بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں | Online Companion Scam
پولیس نے والدین کو بھی خصوصی احتیاط کی ہدایت دی ہے۔ والدین کو بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے باخبر رہنا چاہیے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بچے کون سی پوسٹس دیکھتے ہیں۔ بچوں کے آن لائن رابطوں کے بارے میں بھی معلومات رکھنا ضروری ہے۔
والدین کو بچوں کی بیرونی ملاقاتوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ انہیں یہ جاننا چاہیے کہ بچے کن افراد سے ملاقات کرتے ہیں۔ اسمارٹ فون کے استعمال پر بھی مناسب توجہ ضروری ہے۔ تاہم نگرانی کے ساتھ بچوں کو سائبر خطرات سے آگاہ کرنا بھی اہم ہے۔
پولیس نے خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو رعایتی پیشکشوں سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ نامعلوم افراد کے ساتھ ایسی پیشکشوں پر گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔ ان افراد سے ملاقات سے بھی مکمل طور پر گریز کرنا چاہیے۔ کسی بھی صورت میں پیشگی رقم ادا نہیں کرنی چاہیے۔
اگر کوئی شخص ایسے فراڈ کا شکار ہوجائے تو فوری شکایت کرے۔ سائبر فراڈ کی شکایت کے لیے 1930 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ متاثرین سرکاری سائبر کرائم شکایتی پورٹل پر بھی شکایت درج کرسکتے ہیں۔ پولیس نے فوری اطلاع دینے کو اہم قرار دیا ہے۔
پولیس کے مطابق بروقت شکایت سے رقم کی وصولی کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیقات میں بھی مدد ملتی ہے۔ خواتین کو مشکوک اشتہارات اور نامعلوم رابطوں سے دور رہنا چاہیے۔ یوں احتیاط سائبر فراڈ اور ممکنہ بلیک میلنگ سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
