گدوال طالب علم کی مبینہ خودکشی | Gadwal Student
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے گدوال ضلع میں ایک 17 سالہ انٹرمیڈیٹ سال دوم کے طالب علم کی مبینہ خودکشی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق طالب علم اپنے گھر میں مردہ پایا گیا۔ تاہم واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
متوفی کی شناخت نیتی بوٹو ترون کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ کوتھاپلی گاؤں کا رہائشی تھا۔ وہ گورنمنٹ جونیئر کالج، گدوال میں انٹرمیڈیٹ دوسرے سال کا طالب علم تھا۔
دستیاب معلومات کے مطابق ترون نے انٹرمیڈیٹ پہلے سال کے امتحانات میں 440 میں سے 434 نمبر حاصل کیے تھے۔ اس کے نتیجے میں اس نے ضلع میں دوسرا مقام حاصل کیا تھا۔
مبینہ نوٹ میں کلاس روم کے واقعے کا ذکر | Gadwal Student
اطلاعات کے مطابق ترون ایک خاتون لیکچرر کی جانب سے کلاس میں کیے گئے تقابل کے بعد ذہنی طور پر پریشان تھا۔ مبینہ طور پر اس کے نمبروں کا موازنہ ایک ایسے طالب علم سے کیا گیا تھا جس نے 435 نمبر حاصل کیے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق ترون نے لیکچرر سے کہا تھا کہ اس موازنے اور ریمارکس سے اسے دکھ پہنچا ہے۔
الزامات کے مطابق بعد ازاں لیکچرر نے کلاس روم میں اسے ڈانٹا اور تھپڑ بھی مارا۔ مزید برآں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعے کے بعد بعض طلبہ ہنسنے لگے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس صورتحال سے طالب علم مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہوا۔
پولیس ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے | Gadwal Student
رپورٹس کے مطابق مبینہ نوٹ میں طالب علم نے لکھا کہ اساتذہ کو طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ انہیں سب کے سامنے شرمندہ کرنا چاہیے۔ مبینہ طور پر نوٹ میں متعلقہ لیکچرر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مبینہ نوٹ کے مندرجات اور اس کی صداقت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق واضح ہو سکیں گے۔
اس واقعے کے بعد تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت، فلاح و بہبود اور معاون تعلیمی ماحول کی اہمیت پر بھی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ تاہم واقعے سے متعلق حتمی نتیجہ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
