Drug Awareness Day
حیدرآباد: تلنگانہ جیل خانہ جات اور اصلاحی خدمات محکمہ نے جمعرات کو ریاست بھر کی جیلوں میں منشیات کے خلاف بیداری دن منایا، جو اینٹی ڈرگ اویئرنیس ویک اور منشیات کے استعمال و غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے سلسلے کی ایک اہم سرگرمی تھی۔ اس موقع پر محکمہ نے قیدیوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنے، صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینے اور بحالی کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے بیداری اور بحالی سے متعلق متعدد پروگرام منعقد کیے۔
یہ سرگرمیاں ڈائریکٹر جنرل آف پریزنز اینڈ کریکشنل سروسز ڈاکٹر سومیہ مشرا، آئی پی ایس کی رہنمائی میں انجام دی گئیں۔ پروگراموں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ قیدیوں کے اندر منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے جسمانی، ذہنی اور سماجی نقصانات کے بارے میں شعور پیدا کیا جائے اور ساتھ ہی ان کی بحالی، علاج اور دوبارہ سماجی انضمام کے امکانات کو بہتر بنایا جائے۔
سینٹرل جیل حیدرآباد میں لوگو کی رونمائی اور بیداری مہم | Drug Awareness Day
ڈاکٹر سومیہ مشرا نے سینٹرل پریزن حیدرآباد میں منعقدہ مرکزی پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے نیورتی ڈی ایڈکشن سینٹر کے سرکاری لوگو کی رونمائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ جیل خانہ جات منشیات سے نجات، بحالی اور سماجی بحالی کے عمل کو صرف ایک اصلاحی اقدام کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع انسانی مداخلت کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا مقصد قیدیوں کو نئی زندگی کی طرف لے جانا ہے۔
انہوں نے منشیات کے خلاف بیداری سے متعلق وال پوسٹرز کی بھی رونمائی کی، جن کے ذریعے قیدیوں، جیل عملے اور آنے والے افراد کو منشیات سے بچاؤ، علاج اور بحالی کے طریقوں سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔ مزید برآں، ان پوسٹروں کا مقصد یہ پیغام عام کرنا بھی تھا کہ منشیات کا انحصار ایک قابل علاج مسئلہ ہے، بشرطیکہ بروقت شناخت، مشاورت اور علاج کی سہولت موجود ہو۔
ریاست بھر کی جیلوں میں مشاورتی، ثقافتی اور آگاہی سرگرمیاں | Drug Awareness Day
تلنگانہ کی مختلف جیلوں میں اس سلسلے میں مشاورتی نشستیں، ترغیبی خطابات، بیداری پروگرام، ثقافتی سرگرمیاں، عہد برداری کی تقاریب اور انٹرایکٹو سیشنز منعقد کیے گئے۔ ان سرگرمیوں کا محور منشیات کے استعمال کی روک تھام، علاج کی اہمیت اور بحالی کی حوصلہ افزائی تھا، تاکہ قیدی محض ایک وقتی مہم کا حصہ نہ بنیں بلکہ طویل المدتی طور پر نشے سے پاک زندگی کی طرف راغب ہوں۔
حکام نے اس موقع پر حیدرآباد، چرلہ پلی، نظام آباد اور سنگاریڈی کی سینٹرل جیلوں کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کی خواتین کی خصوصی جیل میں قائم نیورتی ڈی ایڈکشن سینٹروں کے کردار کو بھی نمایاں کیا۔ ان مراکز کو قیدیوں میں منشیات کے انحصار کی شناخت، علاج، مشاورت اور رہائی کے بعد سماجی بحالی کے ایک منظم ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا، جو جیل اصلاحات کے دائرے میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
نیورتی مراکز کے اعداد و شمار، اسکریننگ اور علاجی خدمات | Drug Awareness Day
محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق 4 ڈی ایڈکشن مراکز میں وسط جولائی 2025 سے وسط جون 2026 تک 15,645 قیدیوں کا داخلہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان میں سے 12,675 قیدیوں، یعنی 81.02 فیصد، کی جیل میں داخلے کے وقت منشیات کے استعمال سے متعلق عوارض کے لیے اسکریننگ کی گئی، جس سے 4,200 ایسے قیدیوں کی نشاندہی ہوئی جن میں منشیات پر انحصار کی علامات پائی گئیں۔
حکام کے مطابق ان قیدیوں کو علاج اور بحالی کی خدمات فراہم کی گئیں، تاکہ ان کے انحصار کو صرف سزا کے تناظر میں نہیں بلکہ صحت اور بحالی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جا سکے۔ اسی دوران محکمہ نے 4,100 انفرادی کاؤنسلنگ سیشنز، 1,150 فالو اپ کاؤنسلنگ سیشنز، 507 سائیکو ایجوکیشن اور گروپ تھراپی سیشنز، اور 317 بیداری پروگرام بھی منعقد کیے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محکمہ نے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کثیر سطحی حکمت عملی اختیار کی ہے۔
رہائی کے بعد فالو اپ، عہد اور قومی مشاورتی اجلاس میں شرکت | Drug Awareness Day
محکمہ نے یہ بھی بتایا کہ کاؤنسلرز نے رہائی کے بعد 550 ٹیلی فونک فالو اپ رابطے مکمل کیے، تاکہ قیدیوں کی بحالی کے عمل کو جیل سے باہر بھی جاری رکھا جا سکے اور ان کی سماجی واپسی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جیل حکام، کاؤنسلرز، طبی عملے اور قیدیوں نے اینٹی ڈرگ پلیج لیا اور منشیات سے پاک طرز زندگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پریزنز این مرلی بابو اور سینٹرل پریزن حیدرآباد کے سپرنٹنڈنٹ این شیوا کمار گوڑ بھی موجود تھے۔
اسی سلسلے میں 26 جون کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم، ٹرن یور کنسرن انٹو ایکشن فاؤنڈیشن اور پنجاب پریزنز ڈپارٹمنٹ کے اشتراک سے “ڈرگز، ایچ آئی وی اینڈ پریزن ہیلتھ ریسپانسز” کے موضوع پر ایک قومی مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ ڈاکٹر سومیا مشرا اس اجلاس میں تلنگانہ کی نمائندگی کریں گی اور نیورتی ڈی ایڈکشن سینٹروں کے تحت اختیار کی گئی بہترین عملی مثالوں، اسکریننگ نظام، علاجی پروٹوکول، کاؤنسلنگ خدمات، کنٹینیوٹی آف کیئر اقدامات اور سماجی بحالی کے ماڈلز پر تفصیلی پریزنٹیشن دیں گی، جبکہ ڈی آئی جی پریزنز ایم سمپت بھی اس مشاورت میں شریک ہوں گے۔
