AI Restructuring
حیدرآباد ۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل نے مالی سال 2026 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 21000 ملازمین کی خدمات ختم کر دیں، کیونکہ کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں اپنی توسیعی حکمت عملی کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہی ہے۔
کمپنی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں افرادی قوت میں کمی کی تفصیلات جاری کیں۔ اوریکل کے مطابق یہ فیصلہ کاروباری تنظیم نو اور مصنوعی ذہانت پر مبنی آپریشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک سال قبل کمپنی کے پاس 162000 ملازمین تھے، تاہم 31 مئی 2026 تک یہ تعداد کم ہو کر 141000 رہ گئی۔ یوں مجموعی طور پر تقریباً 13 فیصد عالمی افرادی قوت میں کمی واقع ہوئی۔
کمپنی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ملازمتوں میں کمی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ مزید برآں اوریکل نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی مزید کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت پر سرمایہ کاری میں اضافہ | AI Restructuring
دریں اثنا اوریکل نے مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں پر اپنی توجہ مزید بڑھا دی ہے۔ کمپنی اب صرف ڈیٹا بیس سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہی بلکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ اوریکل بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں بھی مصروف ہے تاکہ اوپن اے آئی جیسی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت کمپنی نے موجودہ مالی سال کے دوران تقریباً 70 ارب ڈالر کے سرمائے کے اخراجات کا منصوبہ بنایا ہے۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے قرض اور ایکویٹی کے ذریعے مزید 40 ارب ڈالر حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کمپنی پر مالی دباؤ میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔
اخراجات میں غیر معمولی اضافہ | AI Restructuring
اوریکل نے مالی سال 2026 کے دوران تنظیم نو اور افرادی قوت میں کمی سے متعلق اقدامات پر 1.84 ارب ڈالر خرچ کیے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال کے دوران یہی اخراجات 374 ملین ڈالر تھے۔
چنانچہ تنظیم نو سے متعلق اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور کاروباری سرگرمیوں کی ازسرنو ترتیب کے عمل کو تیز کیا۔
مزید یہ کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے روزگار کے روایتی ڈھانچے پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اوریکل کی حالیہ حکمت عملی اسی وسیع رجحان کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جہاں کمپنیاں کارکردگی میں اضافے اور اخراجات میں کمی کے لیے جدید خودکار نظاموں کو اپنانے پر زور دے رہی ہیں۔
کمپنی کے حالیہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے۔ لہٰذا ٹیکنالوجی صنعت میں کاروباری تنظیم نو اور افرادی قوت کی تشکیل نو کا عمل آنے والے برسوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
