Policy Contradiction
حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے قانون ساز کونسل کے رکن داسوجو سراون نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو ایک خط لکھ کر پارٹی کی پالیسیوں میں مبینہ تضادات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس مختلف قومی اور بین الاقوامی معاملات پر متضاد مؤقف اختیار کر رہی ہے۔
داسوجو سراون نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ان کا مقصد راہل گاندھی کو ذاتی طور پر نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان امور کی نشاندہی کرنا ہے جنہیں وہ پارٹی کے رویے میں عدم یکسانیت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نئی دہلی میں کانگریس قیادت کے مؤقف اور تلنگانہ حکومت کی پالیسیوں کے درمیان واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا کانگریس ملک بھر میں ایک ہی نظریے اور پالیسی کے تحت کام کرتی ہے یا پھر سیاسی ضرورتوں کے مطابق مختلف مقامات پر مختلف مؤقف اختیار کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے پارٹی کی نظریاتی یکسانیت پر بھی وضاحت طلب کی۔
قومی مؤقف اور ریاستی اقدامات پر سوال | Policy Contradiction
داسوجو سراون نے اپنے مؤقف کے حق میں 20 جون کو کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا کے جاری کردہ بیان کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق اس بیان میں مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنے بیان میں الزام لگایا تھا کہ مرکزی حکومت قومی مفادات کے بجائے تشہیر کو ترجیح دے رہی ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
تاہم، داسوجو سراون کا دعویٰ ہے کہ کانگریس کا یہ قومی مؤقف تلنگانہ میں ہونے والی بعض پیش رفت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق یہی صورتحال پارٹی کے اندر پالیسی سطح پر تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو کے مجوزہ منصوبے کا حوالہ | Policy Contradiction
داسوجو سراون نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت حیدرآباد کے فنانشل ڈسٹرکٹ میں “ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو” کے افتتاح کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ مجوزہ مقام امریکی قونصل خانے کے قریب واقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ہی کانگریس کے قومی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کر چکے تھے۔ لہٰذا انہوں نے راہل گاندھی سے استفسار کیا کہ وہ اس صورتحال کو کس طرح واضح کریں گے اور پارٹی کے مختلف سطحوں پر اختیار کیے گئے مؤقف میں موجود فرق کی کیا توجیہ پیش کریں گے۔
دریں اثنا، اس خط کے منظر عام پر آنے کے بعد قومی اور ریاستی سطح پر کانگریس کی پالیسیوں میں یکسانیت کے موضوع پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو آئندہ دنوں میں بھی موضوع بحث بنے رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
