Smart Crop Monitoring
حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر زراعت، مارکیٹنگ اور کوآپریشن تُملّا ناگیشور راؤ نے خریف سیزن کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے بیج کمپنیوں، کھاد ڈیلرز، زرعی حکام، سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی شراکت داروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں بیجوں کی فراہمی، کھاد کی تقسیم اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر نے بیج کمپنیوں کو ہدایت دی کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ دھان کی 7 اقسام کی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے۔ حکام کے مطابق ان اقسام کی مارکیٹ میں بہتر طلب موجود ہے اور ان کے لیے برآمدی مواقع بھی روشن ہیں۔
اسی لیے تُملّا ناگیشور راؤ نے متعلقہ کمپنیوں کو ہدایت دی کہ کسانوں کو بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے مناسب ذخائر برقرار رکھے جائیں۔ مزید برآں ریاست کے تمام اضلاع میں بیجوں کی دستیابی پر خصوصی توجہ دینے کی بھی تاکید کی گئی۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کی نگرانی | Smart Crop Monitoring
دریں اثنا وزیر نے کھاد ڈیلرز سے یوریا ایپ کے نفاذ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد زمین کے ریکارڈ اور کاشت کی ضروریات کی بنیاد پر کھاد کی شفاف اور ضرورت کے مطابق تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔
کھاد ڈیلرز نے نظام کے استعمال سے متعلق اپنے تجربات اور عملی امور سے آگاہ کیا۔ حکام نے بھی موصول ہونے والی تجاویز اور آراء کا جائزہ لیا تاکہ کسانوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
جدید زرعی نظام کی جانب پیش رفت | Smart Crop Monitoring
اجلاس کے دوران وزیر نے سیٹلائٹ پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے نظاموں پر غور کر رہی ہے جو فصلوں پر کیڑوں کے حملوں اور بیماریوں کی موجودگی کی حقیقی وقت میں نشاندہی کر سکیں۔
چنانچہ متعلقہ ادارے کسانوں کو بروقت مشورے فراہم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں احتیاطی اقدامات کی رہنمائی کرنے کے قابل ہوں گے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات فصلوں کی پیداوار کو محفوظ بنانے اور ممکنہ نقصانات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
مزید برآں وزیر نے کہا کہ حکومت مؤثر زرعی ان پٹس کی فراہمی، منڈی کی ضروریات کے مطابق فصلوں کی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے انضمام پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی کے ذریعے تلنگانہ کے زرعی شعبے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور کسانوں کو بہتر نتائج فراہم کیے جائیں گے۔
لہٰذا حکومت خریف سیزن کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مؤثر انتظامی نظام کے ذریعے زرعی پیداوار میں بہتری لانے کے لیے متعدد اقدامات پر عمل کر رہی ہے، جس سے ریاست کے کسانوں کو طویل مدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
Reviewed Kharif preparedness with seed companies, fertilizer dealers, agriculture officials, scientists and technology partners.
Directed seed companies to ensure adequate availability of the seven paddy varieties recommended by the Telangana Government, which have strong market… pic.twitter.com/Ai6TrRoAT1
— Office of Tummala (@TummalaOfficial) June 18, 2026
