Telangana Dispute
حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ اور جن سینا پارٹی کے سربراہ پون کلیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی حالیہ تقاریر کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی کے فرقہ وارانہ تقسیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبیر علی نے تلنگانہ میں قومی ترانے اور قومی نغمے کی مبینہ مخالفت سے متعلق پون کلیان کے بیانات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایسا کوئی تنازع موجود نہیں ہے اور یہ معاملہ محض سیاسی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے ہمیشہ آئینی اقدار، سیکولر اصولوں اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھا ہے۔ مزید برآں ریاست نے اپنی شناخت اور خودداری کے تحفظ کو بھی ہمیشہ ترجیح دی ہے۔
سیاسی الزامات اور تلنگانہ کا موقف | Telangana Dispute
شبیر علی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں اکثر ایسے جذباتی تنازعات کو ہوا دیتی ہیں جب انہیں عوامی مسائل پر خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پون کلیان فرضی مسائل کو سیاسی بیانیے میں تبدیل کرکے بی جے پی کی تقسیم پسند حکمت عملی کو تقویت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام سیاسی بیانات کے پس پردہ مقاصد کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ تاہم ریاست کے ووٹرز حقیقت اور سیاسی پروپیگنڈے کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شبیر علی نے مزید دعویٰ کیا کہ جن سینا پارٹی کا تلنگانہ میں کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اسی لیے پارٹی مذہبی اور علاقائی جذبات کو استعمال کرکے اپنی سیاسی موجودگی کو نمایاں بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام حقیقی سیاست اور محض سیاسی اداکاری کے درمیان فرق کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
انتخابی کارکردگی پر سوالات | Telangana Dispute
پون کلیان کی جانب سے آئندہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے شبیر علی نے کہا کہ جن سینا پارٹی پہلے ہی 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے میدان میں اتر چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے 8 اسمبلی حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے تھے لیکن تمام امیدوار اپنی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے۔ ان کے مطابق 2023 کے انتخابات میں جن سینا پارٹی کا ووٹ شیئر تقریباً 0.25 فیصد رہا۔
مزید برآں شبیر علی نے کہا کہ فروری 2026 کے بلدیاتی انتخابات میں جن سینا پارٹی نے 336 امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ تاہم پارٹی صرف نیریڈوچرلا اور منچیریال میں 1، 1 وارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان انتخابات میں پارٹی کا مجموعی ووٹ شیئر تقریباً 0.3 فیصد رہا۔ ان کے مطابق یہ نتائج عوامی فیصلے کی واضح عکاسی کرتے ہیں اور پون کلیان کو اپنی جماعت کی کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
شبیر علی نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کا آئینی حق حاصل ہے۔ تاہم کوئی بھی جماعت عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پون کلیان اپنے متنازع بیانات واپس لیں اور تلنگانہ کے عوام سے معافی مانگیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ جمہوری انداز میں مقابلہ کریں اور تلنگانہ کی تشکیل سے وابستہ جذبات اور سماجی ہم آہنگی کا احترام کریں۔
