Meeting Permission Row
حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر ادلوری لکشمن نے عوامی جلسے کی اجازت سے متعلق بیانات پر آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ضابطوں اور قانونی طریقہ کار کا احترام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
وزیر نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام پون کلیان کو سیاست میں آنے سے بہت پہلے ایک اداکار کے طور پر پسند کرتے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے جلسے کی اجازت کے معاملے پر کیے گئے بعض بیانات کو نامناسب قرار دیا۔
ادلوری لکشمن نے کہا کہ اگر کسی جلسے کیلئے اجازت نہیں ملتی تو منتظمین نئی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت مختلف انتظامی اور سکیورٹی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی اجازت دینے یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔
جلسوں کی اجازت ایک انتظامی معاملہ | Meeting Permission Row
وزیر نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام آندھرا پردیش کے لوگوں کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتے ہیں اور ان کی بے عزتی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ریاستوں کے عوام کے درمیان احترام اور بھائی چارے کا رشتہ برقرار ہے۔
مزید برآں انہوں نے کانگریس رہنما اڈنکی دیاکر کے خلاف کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسے کی اجازت سے متعلق تنازع کو ذاتی حملوں کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ذاتی تنقید سے گریز کی اپیل | Meeting Permission Row
ادلوری لکشمن کے مطابق عوامی اجتماعات کیلئے اجازت دینا ایک مکمل انتظامی عمل ہے اور اس حوالے سے مقررہ قوانین موجود ہیں۔ چنانچہ سیاسی رہنماؤں کو ذاتی تنقید کے بجائے قانونی طریقہ کار کا احترام کرنا چاہیے۔
دریں اثنا انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اپنی فراخ دلی، ہمدردی اور مہمان نوازی کیلئے جانے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی خصوصیات ریاست کو ملک کی کئی دیگر ریاستوں سے ممتاز بناتی ہیں۔
وزیر نے کانگریس پارٹی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2029 کے اسمبلی انتخابات کے بعد بھی کانگریس تلنگانہ میں اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی۔
