حیدرآباد: وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے عالمی معاشی فورم 2026 کے موقع پر حیدرآباد میں سالانہ فالو اپ اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے جنوری میں ہونے والے عالمی اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں اور مباحث پر پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیزی سے بدلتے کاروباری ماحول میں ایک سال کا وقفہ بہت طویل ہو چکا ہے۔
داوس میں تلنگانہ پویلین کے دوران وزیر اعلیٰ نے عالمی معاشی فورم کے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کی۔ ان میں فورم کے منیجنگ ڈائریکٹر جیریمی جرگنز اور سی فور آئی آر نیٹ ورک میں اسٹریٹجک امپیکٹ و انٹیگریشن کی سربراہ منجو جارج شامل تھیں۔
وزیر اعلیٰ نے تجویز دی کہ یہ فالو اپ اجلاس ہر سال جولائی یا اگست میں منعقد کیا جائے۔ ان کے مطابق تلنگانہ عالمی معاشی فورم کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ریاست اپنی سرمایہ کاری کی صلاحیت، وسائل اور مضبوط ماحولیاتی نظام کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہے۔
عالمی معاشی فورم کا مثبت ردعمل | WEF Follow-up
فورم کے نمائندوں نے اس تجویز کو مثبت قرار دیا، حالانکہ کئی دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کی پیشکش کر چکے ہیں۔ جیریمی جرگنز نے کہا کہ عالمی معاشی فورم اس خیال کو جلد آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین میں ہر سال سمر داوس کا انعقاد ہوتا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی اسی طرز کی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی دکھا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے تلنگانہ رائزنگ 2047 وژن پیش کیا اور ریاست کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنے کا روڈ میپ بیان کیا۔ بات چیت میں سی فور آئی آر تلنگانہ کی پیش رفت بھی زیر بحث آئی، جسے بایو ایشیا 2024 کے موقع پر حیدرآباد میں قائم کیا گیا تھا۔
تلنگانہ رائزنگ وژن اور عالمی شراکتیں | WEF Follow-up
یہ مرکز بھارت میں صحت اور لائف سائنسز کے لیے عالمی معاشی فورم کا پہلا تھیمیٹک حب ہے، جس کا مقصد ہیلتھ ٹیک اختراع، پالیسی سازی اور اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دینا ہے۔ جرگنز نے اسے بھارت میں فورم کے لیے ایک مضبوط ماڈل قرار دیا اور کہا کہ تلنگانہ رائزنگ وژن تعاون کے کئی نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے حیدرآباد کے ٹیلنٹ بیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی کلسٹر منصوبہ بندی سے متعلق فورم کی تحقیق سی فور آئی آر تلنگانہ کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ اجلاس میں آئی ٹی اور صنعتوں کے وزیر ڈی سریدھر بابو نے سی یو آر ای، پی یو آر ای، آر اے آر ای معاشی حکمت عملی کی وضاحت کی، جبکہ بھارت فیوچر سٹی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
وفد میں وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی بھی شامل تھے، جنہوں نے ایرو اسپیس، دفاع، بایو ڈیزائن، سافٹ ویئر اور فارماسیوٹیکلز میں حیدرآباد کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ ملاقات میں خصوصی چیف سیکریٹری جئےش رنجن بھی موجود تھے۔
