حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل 10 میونسپل کارپوریشنز اور 121 میونسپلٹیوں میں میئر اور چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے ریزرویشن کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت مقامی بلدیاتی اداروں میں نمائندگی کو متوازن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن شریدیوی نے ہفتہ کے روز بتایا کہ مجموعی طور پر 50 فیصد عہدے خواتین کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کی مکمل فہرست اتوار تک اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو ارسال کر دی جائے گی۔
حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے باضابطہ احکامات جاری ہونے کے بعد اسٹیٹ الیکشن کمیشن 2 دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس اقدام کو انتخابی عمل کی تیاریوں میں اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
میئر نشستوں کی تقسیم | Mayor Reservations
سرکاری تفصیلات کے مطابق 10 میونسپل کارپوریشنز میں ایک ایک میئر عہدہ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، جبکہ 3 عہدے پسماندہ طبقات اور ایک جنرل زمرے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
میئر ریزرویشن کے تحت کوتہ گوڑم کو درج فہرست قبائل جنرل، رام گنڈم کو درج فہرست ذات جنرل، محبوب نگر کو پسماندہ طبقات خواتین، جبکہ منچریال اور کریم نگر کو پسماندہ طبقات جنرل کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ خواتین جنرل زمرے میں کھمم، نظام آباد، ورنگل، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور نلگنڈہ شامل ہیں۔
میونسپلٹی چیئرپرسن کوٹہ | Mayor Reservations
میونسپلٹی سطح پر 17 چیئرپرسن عہدے درج فہرست ذات، 5 درج فہرست قبائل، 38 پسماندہ طبقات اور 61 جنرل زمرے کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ کئی قصبوں میں خواتین کے لیے جنرل زمرے کے تحت ریزرویشن دیا گیا ہے، جبکہ کچھ مقامات پر درج فہرست قبائل اور درج فہرست ذات کے لیے نشستیں رکھی گئی ہیں۔
کلواکرتی، بھونگیر اور سنگاریڈی جیسے شہروں میں خواتین جنرل ریزرویشن نافذ کیا گیا ہے، جبکہ محبوب آباد اور بھوتپور جیسے علاقوں میں درج فہرست قبائل جنرل کوٹہ دیا گیا ہے۔ اسٹیشن گھن پور اور کوہیر میں درج فہرست ذات جنرل، جبکہ چوپادانڈی اور حضور آباد میں درج فہرست ذات خواتین کے لیے نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
42 میونسپلٹیوں میں پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن رکھا گیا ہے، جن میں جگتیال، کاماریڈی، ظہیر آباد اور سدی پیٹ شامل ہیں۔ پرکال، میٹ پلی اور چندور جیسے کئی علاقے بغیر ریزرویشن کے رکھے گئے ہیں، جہاں کھلا مقابلہ ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تلنگانہ میونسپلٹیز ایکٹ اور آئینی تقاضوں کے تحت ذات اور صنفی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے بلدیاتی اداروں میں شمولیتی طرز حکمرانی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
