حیدرآباد: کانگریس کے ایم ایل سی تین مار ملنّا نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ ایک خاتون آئی اے ایس افسر کے خلاف ہتک آمیز میڈیا رپورٹوں کے پیچھے بی آر ایس پارٹی کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق ایک ٹی وی چینل پر نشر کی گئی خبر سیاسی مفاد کے لیے تیار کی گئی اور اس کا مقصد انتخابی فائدہ حاصل کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض صحافت سے متعلق نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اقتدار کی سیاست میں ایک خاتون افسر کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔
ٹی وی رپورٹ پر سیاسی الزام | Media Smear
تین مار ملنّا نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس کے سرکردہ رہنماؤں کے ٹی راماراؤ اور ٹی ہریش راؤ نے ٹی وی صحافیوں کی گرفتاری پر جو سخت ردعمل ظاہر کیا، وہ آزادی صحافت کے نام پر نہیں بلکہ اپنے مبینہ راز سامنے آنے کے خوف کی وجہ سے تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ خاتون آئی اے ایس افسر کی نگرانی کی گئی اور ان کی نجی معلومات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے بقول یہ رویہ خواتین کی عزت پر براہِ راست حملہ ہے اور ایسے حالات میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
قانونی کارروائی اور سیاسی بحث | Media Smear
اس تنازع نے اس وقت شدت اختیار کی جب تین مار ملنّا کے بیانات سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ بعد ازاں خاتون آئی اے ایس افسر کی جانب سے درج کرائی گئی باضابطہ شکایت پر پولیس نے کارروائی کی اور متعلقہ صحافیوں کو گرفتار کیا۔
تاہم مجسٹریٹ عدالت نے پولیس کی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے صحافیوں کو ضمانت دے دی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث مزید تیز ہو گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے بی آر ایس قیادت کی خاموشی پر سوال اٹھائے اور کہا کہ اصل الزام سے توجہ ہٹا کر صحافیوں کے دفاع پر زور دیا جا رہا ہے۔
تین مار ملنّا نے الزام لگایا کہ یہ پورا معاملہ ایک میڈیا مہم کے ذریعے کردار کشی کی کوشش ہے، تاکہ سیاسی جواب دہی سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق ریاست میں سیاست کو شفاف بنانے کے لیے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔
