حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر آبپاشی و شہری سپلائیز این اتم کمار ریڈی نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) میں مجوزہ تبدیلیوں کو دیہی مزدوروں کے لیے ’’موت کا پروانہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت قانونی ترامیم کے ذریعے اس قانون کی بنیادی ضمانت کو ختم کر رہی ہے۔
گاندھی بھون میں ٹی پی سی سی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے خبردار کیا کہ اگر ایکٹ کی جگہ نیا قانون لایا گیا تو اس کا اصل مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحفظ کے لیے ملک گیر احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔
کانگریس وراثت پر حملہ | Rural Jobs
اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اس قانون نے دیہی بھارت کی تصویر بدل دی اور غریب خاندانوں کو روزگار کے ساتھ عزت بھی فراہم کی۔ انہوں نے سونیا گاندھی کو اس قانون کا اصل معمار قرار دیا اور کہا کہ یہی وجہ ہے کہ مرکز اسے نشانہ بنا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں کہیں مہاتما گاندھی کا نام یا کانگریس کا قانون نظر آتا ہے، اسے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 100 دن کی روزگار ضمانت اور کم از کم اجرت جیسے بنیادی حقوق کو ختم کیا جا رہا ہے۔
بجٹ میں کٹوتی پر تشویش | Rural Jobs
وزیر نے کہا کہ منریگا کے بجٹ میں 40 فیصد کٹوتی کر کے بوجھ ریاستوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف ریاستی حکومتوں کے لیے ناانصافی ہے بلکہ دیہی خاندانوں پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس قانون کو گرام پنچایتوں کے دائرے سے نکال کر اس کی جڑیں کمزور کی جا رہی ہیں، جس سے مقامی خود اختیاری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اتم کمار ریڈی نے اعلان کیا کہ تلنگانہ کی 12 ہزار گرام پنچایتوں میں قراردادیں منظور کر کے ترامیم کی مخالفت کی جائے گی۔ یہ قراردادیں صدر جمہوریہ کو بھیجی جائیں گی، جن میں منریگا کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
آخر میں انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ گاؤں کی سطح پر تحریک تیز کریں۔ ان کے مطابق جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک منریگا دوبارہ حقیقی روزگار ضمانت میں تبدیل نہیں ہو جاتا۔
