حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی رِٹ پٹیشن پر آج پیر کے روز سپریم کورٹ میں سماعت متوقع ہے، جس میں آندھرا پردیش کی طرف سے پولاورم منصوبے میں مجوزہ توسیعی کاموں پر فوری روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔ ریاست کا مؤقف ہے کہ یہ کام لازمی منظوریوں کے بغیر شروع کیے گئے، جو قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سماعت سے قبل اتوار کے روز وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور وزیر آبپاشی این اُتم کمار ریڈی نے ممبئی میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ابھیشیک سنگھوی سے تفصیلی مشاورت کی۔ اس ملاقات کے دوران قانونی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی تاکہ عدالت میں ریاست کا مؤقف مضبوط انداز میں پیش کیا جا سکے۔
تلنگانہ حکومت نے حال ہی میں سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ آندھرا پردیش نے پولاورم منصوبے میں توسیع کے کام بغیر مرکزی منظوریوں کے شروع کر دیے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ نے آبپاشی محکمہ کے حکام کو تمام تکنیکی دستاویزات تیار رکھنے کی ہدایت دی تھی تاکہ عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے جا سکیں۔
فوری روک کی درخواست | Polavaram Expansion
ریاست کی رِٹ پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پولاورم پروجیکٹ اتھارٹی کو ہدایت دی جائے کہ وہ توسیعی کام فوراً بند کرے۔ تلنگانہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف اسی دائرہ کار تک محدود رہنا چاہیے جس کی پہلے منظوری دی گئی تھی۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی قسم کی توسیع یا دیگر منصوبوں سے ربط کے اقدامات غیر قانونی ہیں۔ ریاست نے نلاملہ ساگر منصوبے سے متعلق پری فیضیبلٹی رپورٹس کے مرکزی جائزے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ تلنگانہ کے اعتراضات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
مرکزی اداروں سے متعلق اعتراضات | Polavaram Expansion
تلنگانہ حکومت نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ مرکزی آبی کمیشن، مرکزی وزارت جل شکتی اور گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کو واضح ہدایات دی جائیں۔ ریاست کا الزام ہے کہ آندھرا پردیش مرکزی آبی کمیشن کی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تفصیلی منصوبہ رپورٹ تیار کر رہا ہے۔
اسی بنیاد پر تلنگانہ نے مطالبہ کیا کہ مرکز کو ماحولیاتی منظوری یا مالی امداد دینے سے روکا جائے۔ ریاست کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر مجاز توسیع سے تلنگانہ کے آبی مفادات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جسے ہر صورت روکا جانا ضروری ہے۔
