حیدرآباد:کانگریس کے سینئر رہنما میانم پلی ہنومنت راؤ نے بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راماراؤ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بی آر ایس نے اقتدار میں آتے ہی تلنگانہ میں سیاسی گفتگو کا معیار گرا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بیانات نے ایک بار پھر پارٹی کے طرزِ سیاست کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ہنومنت راؤ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے خاندان پر عوامی زبان کو خراب کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بی آر ایس قیادت نے ابتدا ہی سے شائستگی کے بجائے تضحیک آمیز سیاست کو فروغ دیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا کے ٹی راماراؤ سیاست میں صرف اپنے والد کے نام کے سہارے داخل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تلنگانہ کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ بی آر ایس قیادت نے اپنے سیاسی کیریئر کس بنیاد پر استوار کیے۔
قیادت کا موازنہ | Telangana Politics
میانم پلی ہنومنت راؤ نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مرحلہ وار عوامی حمایت سے آگے بڑھے۔ ان کے مطابق ریونت ریڈی نے سیاست کا آغاز زیڈ پی ٹی سی رکن کے طور پر کیا اور بعد میں آزاد ایم ایل سی منتخب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے تین مرتبہ اسمبلی انتخابات جیتے اور اس کے بعد رکنِ پارلیمان بنے۔ ان کے مطابق پارٹی نے پہلے انہیں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر منتخب کیا اور پھر عوام نے انہیں وزیر اعلیٰ کے منصب تک پہنچایا۔
عوامی حمایت کا دعویٰ | Telangana Politics
ایک ہفتہ قبل دیے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ہنومنت راؤ نے سوال کیا کہ آیا کے ٹی راماراؤ نے خود نامناسب زبان استعمال نہیں کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بی آر ایس تلنگانہ میں عوامی حمایت مکمل طور پر کھو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی گرتی ہوئی سیاسی حیثیت کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے اور اسی جھنجھلاہٹ کا اظہار حالیہ بیانات میں نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق عوام اب ایسے طرزِ سیاست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
