حیدرآباد: تلنگانہ انٹر جے اے سی نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ مسلسل جائزوں اور واضح حکمت عملی نے سرکاری انٹرمیڈیٹ تعلیم کو نئی توانائی بخشی ہے۔ جے اے سی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی خصوصی دلچسپی سے کئی اصلاحات ممکن ہوئیں۔
اپنے بیان میں جے اے سی نے نئے تعلیمی سال کے لیے مزید سرکاری تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری جونیئر کالجز کے تمام طلبہ کو یونیفارم، دوپہر کا کھانا اور مفت بس سفر فراہم کیا جائے۔ جے اے سی کے مطابق ان اقدامات سے ریاست بھر میں داخلوں میں اضافہ اور رسائی میں بہتری آئے گی۔
پچھلی بے توجہی اور حالیہ پیش رفت کا موازنہ | Education Reforms
جے اے سی نے کہا کہ سابق حکومتوں نے سرکاری جونیئر کالجز کو نظرانداز کیا۔ ریاست کی تشکیل کے وقت صرف 380 کالجز موجود تھے اور ان میں 60 ہزار سے بھی کم طلبہ پڑھتے تھے۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طلبہ کے لیے مفت تعلیم کے احکامات بھی ناکافی فنڈنگ کے باعث مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔
موجودہ اصلاحات کو جے اے سی نے تعلیمی بحالی کا اہم مرحلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹی جی پی ایس سی کے ذریعے تقریباً 1,300 اساتذہ کی بھرتی نے تدریسی عمل کو مضبوط بنایا۔ کالجز کے لیے ماہانہ مین ٹیننس گرانٹ کا فیصلہ بھی خوش آئند قرار دیا گیا۔
انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور امتحانی اصلاحات | Education Reforms
ریاست نے 326 سرکاری جونیئر کالجز میں مرمت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 56.16 کروڑ روپوں کی منظوری دی۔ کالجز کو لیپ ٹاپ اپ گریڈ اور کھیلوں کے سامان کے لیے بھی رقوم جاری کی گئیں۔ جے اے سی نے نگرانی کے بہتر نظام، سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈیجیٹل حاضری کے نفاذ کی تعریف کی۔ چھٹی اور میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کے لیے نئی آن لائن سہولتوں کو بھی اہم قدم قرار دیا گیا۔
امتحانات سے متعلق اصلاحات میں ہال ٹکٹوں پر کیو آر کوڈ، مراکز تک نقشے کی بنیاد پر رہنمائی، پرنٹنگ میں تبدیلیاں اور بہتر ری ویلیوایشن شامل ہیں۔ جے اے سی نے کہا کہ یہ اقدامات تعلیمی نظام کو شفاف اور منظم بناتے ہیں۔ گروپ کو توقع ہے کہ یہ اصلاحاتی سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
