حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے منگل کے روز الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کی حالیہ حیدرآباد انڈسٹریل لینڈ ٹرانسفارمیشن پالیسی (HILTP) دراصل 5 لاکھ کروڑ روپئے کے لینڈ اسکام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے ذریعے سرکاری صنعتی زمینیں خفیہ طور پر نجی ریئل اسٹیٹ مفادات کے حوالے کی جا رہی ہیں۔
میڈیا بریفنگ میں کے ٹی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے آوٹر رنگ روڈ کے اندر واقع 20 صنعتی زونز میں موجود 9,292 ایکڑ اراضی کو نجی تعمیراتی گروپس کیلئے تبدیل کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ترقی کے نام پر یہ تاثر دے رہی ہے، لیکن حقیقت میں زمینیں صرف رجسٹریشن ویلیو کے 30 فیصد پر منتقل کی جا رہی ہیں۔
صنعتی زمینیں عوامی روزگار کیلئے تھیں، منافع کیلئے منتقل کی جا رہی ہیں | Land Scam
کے ٹی آر نے کہا کہ یہ زمینیں اصل میں صنعتوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے مختص کی گئی تھیں، مگر اب انہیں کمرشل منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہر میں پارکس، مکانات اور قبرستانوں کی کمی پہلے ہی ہے، اس کے باوجود حکومت مزید 9,300 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی بیچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پالیسی کو وزیر اعلیٰ کے خاندان کے مستقبل کے مالی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ ’’ناقابلِ تصور زمینی استحصال کا منصوبہ‘‘ ہے جس کے خلاف عوامی مزاحمت ناگزیر ہو گئی ہے۔
کے ٹی آر نے طلبہ، کیڈر اور عوام سے مہم شروع کرنے کی اپیل | Land Scam
انہوں نے کیڈر، طلبہ تنظیموں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ بھر میں بڑے پیمانے پر آگہی مہم چلائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اس پالیسی کے پوشیدہ اثرات سے واقف کرانا ضروری ہے تاکہ سرکاری اراضی کے غیر شفاف سودوں کو روکا جا سکے۔
کے ٹی آر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پالیسی کو فوری واپس لے اور صنعتی زمینوں کو اصل مقصد کے لیے محفوظ رکھے۔
