حیدرآباد ۔ دہلی ہائی کورٹ نے مشہور اداکار اکینینی ناگرجنا کو بڑی راحت فراہم کرتے ہوئے ان کے ذاتی تشخص اور شناختی حقوق کے تحفظ کے لیے عبوری احکامات جاری کیے ہیں۔ Nagarjuna Deepfake Case میں عدالت نے واضح کیا کہ ان کے نام، آواز یا تصویر کو کسی بھی تجارتی مقصد کے لیے ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اداکار ناگرجنا نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کے ذریعے ان کے نام پر جعلی اشتہارات، وائرل ویڈیوز اور مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر اس رجحان پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو یہ مستقبل میں شخصیات کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
عدالت کا فیصلہ اور وکلا کے دلائل
جسٹس تیجسوی کاریا نے منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کوئی فرد یا کمپنی ناگرجنا کی شناخت کو تجارتی اشتہارات یا مصنوعات میں بغیر اجازت استعمال نہیں کر سکتی۔ مزید یہ کہ اگر ان کی آواز، تصویر یا شناخت کو مصنوعی ذہانت یا ڈیپ فیک کے ذریعے غلط استعمال کیا گیا تو اس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس مقدمے میں سینئر وکلا پروین آنند، ویشالی مِتل اور ویبھو گاگر نے ناگرجنا کی نمائندگی کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ناگرجنا 95 فلموں میں کام کر چکے ہیں، دو قومی ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے لاکھوں مداح ہیں۔ ان کے مطابق بعض گروپس ان کی مقبولیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی اشتہارات، نازیبا مواد اور ٹی شرٹس تیار کر رہے ہیں۔ مزید برآں، یوٹیوب شارٹس پر بھی جھوٹی ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں گمراہ کن ہیش ٹیگز استعمال ہوتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق Nagarjuna Deepfake Case میں آیا یہ فیصلہ بھارت کے ڈیجیٹل دور میں مشہور شخصیات کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور مستقبل میں دیگر مشہور ہستیوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
