حیدرآباد ۔ حیدرآباد میں جرائم کی شرح میں گزشتہ سال کے مقابلے 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سٹی پولیس کمشنر سی وی آنند نے اتوار کو یہ Hyderabad Crime Statistics پیش کیے۔ ان کے مطابق ستمبر 2024 سے اگست 2025 کے دوران پولیس نے 31,533 مقدمات درج کیے، جب کہ اس سے پچھلے دورانیے میں 38,206 مقدمات درج ہوئے تھے۔ یہ تفصیلات انہوں نے ڈپٹی کمشنرز اور مختلف شعبہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ کرائم ریویو میٹنگ میں بیان کیں۔
کمشنر نے کہا کہ جرائم میں کمی پولیس کے تمام یونٹس کی اجتماعی اور مربوط کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ قتل کے واقعات 85 سے گھٹ کر 73 پر آگئے، یعنی 14 فیصد کمی۔ اقدامِ قتل کے مقدمات 259 سے کم ہو کر 185 رہ گئے جبکہ اغوا کے کیس 698 سے گھٹ کر 616 ہو گئے۔
خواتین کے خلاف جرائم اور دیگر اعداد و شمار
سائبر کرائم کے معاملات میں بھی کمی دیکھی گئی۔ گزشتہ سال 4,348 کیس درج ہوئے تھے جب کہ رواں سال یہ تعداد 3,745 رہی۔ ڈکیتی کے کیسز 701 سے کم ہو کر 578 ہو گئے اور چوری کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی، جو 4,778 سے کم ہو کر 3,501 پر آگئے۔
Hyderabad Crime Statistics کے مطابق، خواتین کے خلاف جرائم میں بھی کمی آئی۔ جنسی حملوں کے واقعات 632 سے کم ہو کر 485 رہ گئے، یعنی 23 فیصد کمی۔ خواتین سے متعلق اغوا کے کیس 265 سے گھٹ کر 239 پر آگئے۔ تاہم ہراسانی کے کیس تقریباً یکساں رہے، جو گزشتہ سال 1,358 تھے اور رواں سال 1,351 ریکارڈ کیے گئے۔
اجلاس میں ایڈیشنل کمشنرز وکرم سنگھ مان اور پی وشوا پرساد، جوائنٹ کمشنرز ڈی جوئیل ڈیوِس اور پریملا ہنا نیوٹن کے علاوہ ڈپٹی کمشنرز این شویتا، کے شلپاولی، وجے کمار، ایس رشمِی پیرومل، بالا سوامی، اسنہا مہرا، اپوروا راؤ، راہل ہیگڑے، آر وینکٹیشورلو، کویتا، لاونیا نائیک جادھو، چندرموہن، چیتنیا کمار اور سرینواس بھی شریک تھے۔
CP Hyderabad Sri C.V. Anand, IPS, chaired the Crime Review Meeting today with senior officers. He appreciated the dedicated efforts of the entire force which have led to a significant 17% decline in overall crime this year.
Major reductions were recorded in Property Offences… pic.twitter.com/R5j5NGN06P
— CP Hyderabad City Police (@CPHydCity) September 28, 2025
