حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر اور سابق رکن پارلیمان K. Kavitha نے منگل کے روز امید ظاہر کی کہ انڈیا بلاک کے امیدوار بی سدرشن ریڈی نائب صدر جمہوریہ منتخب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حمایت دراصل ایک مثبت علاقائیت ہے، کیونکہ ایک تلگو لیڈر کی جیت اس عہدے کے وقار میں اضافہ کرے گی۔
جوبلی ہلز میں کالوجی نرائن راؤ کی یوم پیدائش کے موقع پر جاگروتی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے قطع نظر یہ تلنگانہ کے فرزند کے لیے ایک موقع ہے۔ اگر سدرشن ریڈی کامیاب ہوتے ہیں تو نائب صدر کا عہدہ مزید جگمگائے گا۔
تلنگانہ جاگروتی کا نیا رخ
کویتاکی یہ ریمارکس اس وقت سیاسی توجہ کا مرکز بنے جب بی آر ایس نے نائب صدراتی انتخاب میں غیر حاضری اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی حالیہ حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور بڑے سماجی مقاصد کے لیے حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ ان کے بقول ہمارا سفر صرف جغرافیائی تلنگانہ کے لیے نہیں بلکہ سماجی تلنگانہ کے قیام کے لیے ہے، اور جب تک یہ مقصد پورا نہ ہو ہم سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔
K. Kavitha نے وضاحت کی کہ جاگروتی دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کو شامل کرکے سماجی ایجنڈا وضع کرے گی اور ہر طبقہ کو موقع اور انصاف فراہم کرنے پر توجہ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کے چندر شیکھر راؤ کو تیسری بار اقتدار ملا ہوتا تو وہ بھی سماجی تلنگانہ کے لیے کام کرتے۔ وہ موقع نہیں آیا، اب یہ ذمہ داری تلنگانہ جاگروتی نبھائے گی۔
ریونت ریڈی پر الزام
سابق رکن پارلیمان کویتا نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر الزام لگایا کہ انہوں نے گوداوری فیز۔2 اور فیز۔3 کاموں کے تخمینے بڑھا دیے تاکہ ٹھیکیدار میگا کرشنا ریڈی کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ کویتا نے کہا کہ یہ ریونت ریڈی کا خاندانی سرمایہ نہیں بلکہ عوامی دولت ہے، انہیں جواب دینا ہوگا کہ منصوبوں کی لاگت کیوں بڑھائی گئی۔
K. Kavitha کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تلنگانہ جاگروتی آنے والے دنوں میں سیاسی اور سماجی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرے گی۔ ان کے سدرشن ریڈی کے حق میں دیے گئے بیانات اور ریونت ریڈی پر لگائے گئے الزامات نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
