حیدرآباد: تلنگانہ حکومت ہائی پروفائل Phone tappingکیس کو سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ ریاست کا تیسرا کیس ہوگا جو مرکزی تفتیشی ایجنسی کے پاس جائے گا۔
پہلے ہی دو مقدمات سی بی آئی کے پاس
کالیشورم آبپاشی اسکام کو حکومت نے پہلے ہی سی بی آئی کو بھیج دیا ہے، جبکہ منتھنی کے وکیل جوڑے کے قتل کی تحقیقات سپریم کورٹ کے حکم پر سی بی آئی کر رہی ہے۔ اب Phone tappingکیس بھی اسی دائرے میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت والی حکومت قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اعلیٰ عہدیدار قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہے ہیں اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ کو دوبارہ جانچتے ہوئے مزید شواہد اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی آر ایس دور میں غیر قانونی نگرانی
یہ کیس مبینہ طور پر بی آر ایس کے دورِ حکومت میں اسپیشل انٹیلیجنس برانچ (ایس آئی بی) کی جانب سے غیر قانونی نگرانی سے جڑا ہے۔ ایس آئی بی کے اُس وقت کے سربراہ پربھاکر راؤ کے ماتحت ’اسپیشل آپریشن ٹارگٹس‘ نامی خفیہ یونٹ قائم کیا گیا تھا، جس کی قیادت سابق ایڈیشنل ایس پی پرنیت راؤ کر رہے تھے۔
ایس آئی ٹی کے مطابق اس ٹیم نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹریئی) کو جعلی ڈیٹا فراہم کیا اور قومی سلامتی کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر منظوری کے کالز ٹیپ کیں۔
15 دنوں میں 600 سے زائد نمبر ٹیپ
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ محض 15 دن میں تقریباً 618 فون نمبرز ٹیپ کیے گئے۔ ان میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران، مرکزی وزرا، ریاستی گورنر اور سیاسی رہنما شامل تھے۔ نشانہ بننے والوں میں مرکزی وزیر بندی سنجے، ان کے پرسنل اسسٹنٹ اور بی جے پی کے کارکن بھی شامل ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے بندی سنجے اور بی جے پی عہدیداروں کے بیانات قلم بند کیے۔ ایس آئی ٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پربھاکر راؤ کو انٹرسپشن کے قانونی اختیار پر تعینات کرنے میں ضابطہ جاتی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ مرکزی قواعد کے مطابق نگرانی صرف 7 دن تک بغیر جائزہ کے ممکن ہے، لیکن ایس آئی بی یونٹ نے اس قانون کو نظرانداز کیا۔
کیس کی نوعیت اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کا ماننا ہے کہ مکمل حقائق سامنے لانے کے لیے سی بی آئی انکوائری ضروری ہے۔
