حیدرآباد: مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ بینک پہلی بار قرض لینے والوں کی درخواست صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کر سکتے کہ ان کا کوئی CIBIL Score یا سابقہ کریڈٹ ہسٹری موجود نہیں ہے۔ وزیر مملکت برائے مالیات پنکج چودھری نے لوک سبھا میں جاری مانسون سیشن کے دوران یہ وضاحت پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ نئے قرض داروں کی کریڈٹ ہسٹری نہیں ہوتی، اس لیے بینکوں کو اس پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریزرو بینک نے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو واضح ہدایت دی ہے کہ پہلی بار قرض لینے والوں کی درخواست صرف کریڈٹ ہسٹری نہ ہونے کی وجہ سے مسترد نہ کی جائے۔
پنکج چودھری نے مزید بتایا کہ ریزرو بینک نے قرض کی منظوری کے لیے کسی کم از کم کریڈٹ اسکور کی شرط عائد نہیں کی ہے۔ بینک اپنی بورڈ سے منظور شدہ پالیسیوں اور تجارتی پہلوؤں کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کریڈٹ انفارمیشن رپورٹ صرف ایک حوالہ ہے اور اسے قرض کی اہلیت کے تعین میں واحد بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں CIBIL اسکور نہ ہو۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ قرض اندھا دھند تقسیم نہیں کیے جا سکتے۔ بینکوں کو درخواست دہندہ کی ادائیگی کی صلاحیت، ماضی میں قرض کے تصفیہ یا لکھ آف ریکارڈز اور مجموعی مالی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کریڈٹ انفارمیشن کمپنیاں ایک کریڈٹ رپورٹ جاری کرنے پر زیادہ سے زیادہ 100 روپئے وصول کر سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں ریزرو بینک کے 2016 کے سرکلر کے مطابق ہر شہری کو سال میں ایک مرتبہ مفت الیکٹرانک کریڈٹ رپورٹ فراہم کرنا لازمی ہے۔
