حیدرآباد: بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام UPIنے اگست 2025 میں نئی بلندی حاصل کی اور روزانہ اوسط 90,446 کروڑ روپئے سے تجاوز کر گیا۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو پی آئی چھوٹی رقوم سے لے کر بڑی ٹرانزیکشنز تک عوام کی اولین ترجیح بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یو پی آئی ٹرانزیکشنز میں پورے سال کے دوران مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جنوری میں روزانہ اوسط ٹرانزیکشن ویلیو 75,743 کروڑ روپئے تھی جو جولائی تک بڑھ کر 80,919 کروڑ ہوگئی۔ اگست میں سب سے تیز اضافہ ہوا اور یہ اعداد و شمار 90,000 کروڑ کی حد عبور کر گئے۔
ٹرانزیکشن کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ جنوری سے اگست کے درمیان روزانہ یو پی آئی ٹرانزیکشنز میں 127 ملین کا اضافہ ہوا اور یومیہ تعداد 675 ملین تک پہنچ گئی۔ یہ رجحان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی عوام چھوٹے پیمانے کی منتقلی سے لے کر بڑی مالی لین دین تک کے لیے یو پی آئی پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا یو پی آئی نیٹ ورک میں سب سے بڑا ریمیٹر بینک بن کر ابھرا ہے۔ صرف ایس بی آئی نے 5.2 بلین ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جبکہ دیگر بڑے بینکوں نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں یہ رفتار آنے والے دنوں میں مزید تیز ہو سکتی ہے۔
