ہریش راؤ کا 22A اراضی معاملے پر تحقیقات کا مطالبہ | 22A Land
حیدرآباد: بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے 22A ممنوعہ اراضی معاملے پر حاضر سروس جج سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ جائیداد مالکان کو فوری ریلیف دینے پر بھی زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے حکومت سے وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
ٹی ہریش راؤ نے وزیر ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی کو کابینہ سے برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ مطالبات قطب اللہ پور اسمبلی حلقے کے شاپور نگر میں ایم جے گارڈنز میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیے۔ اسی دوران رکن اسمبلی کے پی وویکانند بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
ٹی ہریش راؤ نے متاثرہ خاندانوں کے مسائل سنے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بی آر ایس ہر مرحلے پر ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
انہوں نے پونگولیٹی سرینواس ریڈی کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ 98 فیصد اراضی کو 22A فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو سیکڑوں افراد اب بھی سرکاری دفاتر کے چکر کیوں لگا رہے ہیں۔
حکومت کی غلطی کا الزام | 22A Land
ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ حکومت نے خود لاکھوں افراد کی اراضی ممنوعہ فہرست میں شامل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس غلطی کی سزا عوام کو نہیں ملنی چاہیے۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو مختلف دفاتر میں درخواستیں دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو اپنی غلطی خود درست کرنی چاہیے۔
ٹی ہریش راؤ نے پدماراؤ نگر فیز-1 کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ تقریباً 58 سال پرانا ہے۔
انہوں نے اسپرنگ فیلڈ کالونی کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق یہ کالونی 1950 کی دہائی سے آباد ہے۔
انہوں نے نظام پیٹ کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کئی دہائیوں پرانی پٹہ اراضی بھی 22A فہرست میں شامل کر دی گئی۔
ٹی ہریش راؤ نے اس فیصلے کو من مانی قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں دلال سرگرم ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت سے وابستہ بعض افراد رقم وصول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق متاثرہ شہریوں نے ایسی شکایات کی ہیں۔
کمیشن کے الزامات | 22A Land
ٹی ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ محبوب نگر کے ایک کانگریس رکن اسمبلی اسپرنگ فیلڈ کالونی میں ہر ولا اور فلیٹ کے لیے 30 ہزار روپے وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام متاثرہ افراد کی شکایات پر مبنی ہے۔
انہوں نے امین پور کے ایک شہری کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اس شخص کو ایم آر او، آر ڈی او اور کلکٹر کے دفاتر بھیجا گیا۔
بعد ازاں اس شخص پر مبینہ طور پر دلالوں سے رابطہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات تشویشناک ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 22A معاملے کے پیچھے بڑے پیمانے پر کمیشن کا نظام چل رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور وزیر ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی کے نام لیتے ہوئے “50-50 کمیشن” کا الزام بھی عائد کیا۔
تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق حکومت کی جانب سے ان الزامات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سرکاری اراضی پر بھی سوالات | 22A Land
ٹی ہریش راؤ نے ریونت ریڈی کے رئیل اسٹیٹ سے متعلق بیانات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے چاہییں۔
مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری اراضی فروخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایچ ایم ڈی اے، ٹی جی آئی آئی سی اور ہاؤسنگ بورڈ کی زمینوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہزار مربع گز کا کھیل کا میدان بھی فروخت کے لیے رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
ٹی ہریش راؤ نے خبردار کیا کہ اسی رفتار سے زمین فروخت ہوتی رہی تو مستقبل میں عوامی سہولتوں کے لیے اراضی کم پڑ سکتی ہے۔
اسمبلی میں احتجاج کا اعلان | 22A Land
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف حیدرآباد تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں تقریباً ایک کروڑ ایکڑ زرعی اراضی بھی 22A فہرست میں شامل کی گئی۔
انہوں نے ملکاجگیری کے ایک سابق اجلاس کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق وہاں متاثرین کی تفصیلات جمع کرنے کے بعد بعض اراضی کو فہرست سے نکالا گیا۔
اسی دوران انہوں نے تلنگانہ بھون آنے والے متاثرین کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ان افراد کی زمینیں بھی بعد میں ممنوعہ فہرست سے خارج کی گئیں۔
ٹی ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس کے دباؤ کے بعد حکومت نے کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت متاثرہ افراد کی حمایت جاری رکھے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بی آر ایس 7 ستمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں یہ معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔ مزید برآں انہوں نے حاضر سروس جج سے فوری تحقیقات کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے ممنوعہ اراضی کی مکمل فہرست عام کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکومت سے فوری وائٹ پیپر جاری کرنے کی اپیل کی۔
آخر میں ٹی ہریش راؤ نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ پونگولیٹی سرینواس ریڈی کو کابینہ سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ ریونیو نے جائیداد مالکان کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔
