حیدرآباد: کالیشورم پراجیکٹ پر عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے درمیان بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) ایک نئے بحران کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے 10 سابق ارکان اسمبلی بی جے پی میں شامل BRS Defectionsہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
سابق اچم پیٹ ایم ایل اے گووّلا بال راجو اور سابق آلاپور ایم ایل اے ابراہم نے پہلے ہی BRS سے استعفیٰ دے دیا ہے اور باوثوق ذرائع کے مطابق بی جے پی سے رجوع کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ آپریشن فارم ہاؤس کیس میں ملوث سابق ارکان اسمبلی بیرم ہرشا وردھن ریڈی، ریگا کانتا راؤ اور پائلٹ روہت ریڈی کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ بی جے پی قائدین سے بات چیت میں مصروف ہیں۔
پہلا گروپ 9 اگست کو بی جے پی میں شمولیت اختیار کرے گا
ذرائع کے مطابق، پرانے پلماورو اور رنگا ریڈی اضلاع سے تعلق رکھنے والے چار سابق ارکان اسمبلی 9 اگست کو دہلی میں بی جے پی لیڈر بی ایل سنتوش کی موجودگی میں باضابطہ طور پر بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں نگر کرنول سے دو سے تین اور سابق رنگا ریڈی ضلع سے ایک سابق ایم ایل اے شامل بتایا جا رہا ہے۔
ایک دوسرا گروپ بھی جلد بی جے پی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے، جس میں پلماورو، کھمم اور دیگر علاقوں کے چھ مزید سابق بی آر ایس قائدین شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ نے مبینہ طور پر بی ایل سنتوش کے ساتھ بند کمرے میں ملاقاتیں کی ہیں، اور بتایا کہ انہوں نے “آپریشن فارم ہاؤس” کے دوران کے سی آر کی ہدایت پر کام کیا۔
دہلی میں کے ٹی آر کا دورہ مزید قیاس آرائیوں کا سبب
اسی دوران بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کی اچانک دہلی روانگی نے سیاسی حلقوں میں مزید چہ میگوئیاں چھیڑ دی ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی گئے ہیں، لیکن انکاپلی کے بی جے پی ایم پی سی ایم رمیش کے اس بیان پر ان کی خاموشی — کہ بی آر ایس اور بی جے پی کے انضمام کی بات ہو رہی ہے — بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔
دو سابق ارکان اسمبلی کے BRS چھوڑنے اور دیگر کی بی جے پی سے بات چیت کی خبروں کے درمیان، کے ٹی آر کا دہلی دورہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
