حیدرآباد: کانگریس مشیر محمد Shabbir Aliنے نظام آباد میں جناہیتا پدیاترا میں شرکت کی اور بعد ازاں کماریڈی میں بھرپور فلاحی مہم کی قیادت کی، جس سے شمالی تلنگانہ میں پارٹی کا عوامی رابطہ مزید مستحکم ہوا۔
پدیاترا آرمور حلقہ کے علور سے آرمور تک منعقد ہوئی، جس میں شبیر علی کے ہمراہ آل انڈیا کانگریس انچارج میناکشی نٹراجن، ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ اور وزیر سیتکّا نے حصہ لیا۔ قائدین نے مقامی عوام سے براہِ راست ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل سنے۔
شبیر علی نے کہا کہ تلنگانہ ملک بھر میں پسماندہ طبقات کی سیاسی شمولیت کے لیے ایک مثال بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے کانگریس کے “عوام مقدم” نقطہ نظر کو بنیاد فراہم کی، اور یہی تصور جناہیتا پدیاترا میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا: یہ علامتی اقدام نہیں۔ ہم اس لیے چلتے ہیں تاکہ عوام کی باتیں سن کر حکمرانی کی بنیاد رکھی جا سکے۔

کاماریڈی میں شبیر علی نے نئے راشن کارڈ تقسیم کیے اور 7 کروڑ روپئے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا جن میں سی سی روڈز، ڈرینیج لائنز وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کام گوسنگی کالونی، اندرا نگر، ہریجن واڑہ اور بچکنڈہ میں مکمل کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس حکومت کے 10 سالہ وقفے کے بعد کانگریس نے راشن کارڈز کی اجرائی دوبارہ شروع کی ہے۔ اب تک 93 لاکھ کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں، جن سے تقریباً تمام مستحق خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ ہر شخص کو ماہانہ 6 کلو عمدہ چاول فراہم کیا جا رہا ہے، جو کہ فلاحی اسکیموں کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔
شبیر علی نے اعلان کیا کہ ریاست بھر میں ایک کروڑ خواتین کو 10 لاکھ روپئے کا انشورنس تحفظ حاصل ہوگا، جس میں صحت، حادثات اور زندگی شامل ہیں۔ خود امدادی گروپوں میں شامل خواتین کو نئی اسکیموں کے ذریعہ معاشی خودمختاری دی جائے گی۔
انہوں نے تصدیق کی کہ 42 فیصد بی سی ریزرویشن سے متعلق تجویز صدر جمہوریہ کو روانہ کی جا چکی ہے، اور آنے والے مقامی انتخابات اسی کوٹے کے مطابق منعقد ہوں گے۔
کماریڈی کو اب تک 3,500 اندرامّا مکانات منظور ہو چکے ہیں، جبکہ ریاست بھر میں 51 لاکھ خاندانوں کو ماہانہ 200 یونٹ مفت برقی فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا: ہماری ضمانتیں کاغذوں تک محدود نہیں بلکہ گھر گھر پہنچ رہی ہیں۔
