حیدرآباد: حیات نگر اور کنٹلور علاقوں میں جدید طریقۂ علاج (ایلوپیتھی) کی غیر مجاز پریکٹس کرنے والے تین Fake Doctors کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس بات کی تصدیق تلنگانہ میڈیکل کونسل کے وائس چیئرمین ڈاکٹر گنڈاگانی سرینواس نے جمعرات کو کی۔
عوامی شکایات کی بنیاد پر تلنگانہ اسٹیٹ میڈیکل کونسل (TSMC) کی ٹیم نے بدھ کو اچانک چھاپے مارے، جن کے دوران متعدد غیر منظور شدہ کلینکس اور بغیر ایم بی بی ایس اہلیت رکھنے والے افراد کو جدید علاج کرتے ہوئے پایا گیا۔
کنٹلور میں ’سن رائز ہاسپٹل اینڈ ڈائگنوسٹک سنٹر‘ چلا رہے ڈاکٹر اُما کانت، جن کے پاس صرف BAMS ڈگری ہے، ایلوپیتھی علاج کرتے ہوئے پائے گئے۔ حیات نگر میں براہمیندرا نامی شخص ’سری وجیا براہمیندرا فرسٹ ایڈ سنٹر‘ میں غیر قانونی طور پر جدید علاج کر رہا تھا، جبکہ ونود، جو صرف انٹرمیڈیٹ تعلیم یافتہ ہے، ’ہنومان فرسٹ ایڈ سنٹر‘ میں بغیر کسی لائسنس کے علاج فراہم کر رہا تھا۔
’سری سائی پالی کلینک‘ میں ڈاکٹر کے ایس پرساد، جن کے پاس BHMS ڈگری ہے، خود کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ظاہر کر کے مریضوں کو گمراہ کر رہے تھے۔ بالاجی فرسٹ ایڈ سنٹر سے منسلک رام بابو بھی بغیر لائسنس کے دوائیں تجویز کر رہے تھے، جن میں اینٹی بایوٹک اور اسٹیروئیڈز شامل ہیں۔
کونسل نے اُما کانت اور کے ایس پرساد کو اہلیت کے غلط استعمال پر نوٹس جاری کیے۔ رام بابو کمپلی، راگھوچاری وشونا دُولا اور ونم ونود کمار کے خلاف رسمی شکایات درج کی گئیں، جو مبینہ طور پر خود کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ظاہر کر کے غیر مجاز اسپتال چلا رہے تھے۔
حیات نگر کے انسپکٹر سی آئی ناگرجو گوڑ نے بتایا کہ ان افراد کے خلاف نیشنل میڈیکل کمیشن ایکٹ کی دفعات 34، 54، تلنگانہ اسٹیٹ میڈیکل پریکٹیشنرز رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 22، اور بھارتیہ نیایہ سنہیتا کی دفعات 318، 319 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر سرینواس نے بتایا کہ اب تک تلنگانہ بھر میں جعلی ڈاکٹروں کے 500 سے زائد کیسز TSMC نے رجسٹر کیے ہیں۔ حیات نگر میں چھاپے ڈاکٹر کن وشنو، ویجیلنس آفیسر راکیش اور دیگر افسران نے انجام دیے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ کلینکس اچانک بند ہو گئے اور مالکان فرار ہو گئے۔ مستقبل میں مزید چھاپوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
کونسل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی ڈاکٹروں کی شکایات بذریعہ ای میل [antiquackerytsmc@onlinetsmc.in](mailto:antiquackerytsmc@onlinetsmc.in) پر درج کریں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
