فائر سیفٹی قانون میں سخت سزاؤں کی تجویز | Fire Safety Reforms
حیدرآباد:۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سرکاری ترجمان سید نظام الدین نے ریاستی کابینہ کی جانب سے فائر سیفٹی قانون میں ترامیم کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق نئی تجاویز سے قانون پر عمل درآمد مضبوط ہوگا اور مہلک حادثات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے سابقہ بی آر ایس حکومت پر بھی اصلاحات میں تاخیر کا الزام عائد کیا۔
سید نظام الدین نے ہفتہ 7 نومبر کو گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ فائر سروسز ایکٹ 1999 میں مجوزہ تبدیلیاں سخت سزاؤں اور وسیع تر جواب دہی کا راستہ کھولیں گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قانون میں اصلاحات شروع کرنے پر تعریف کی۔
ترجمان کے مطابق کانگریس حکومت نے آگ سے تحفظ اور ضابطوں پر عمل درآمد کی پرانی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قانون متحدہ آندھرا پردیش کے دور میں بنایا گیا تھا۔ تاہم، شہروں کی توسیع، صنعتی ترقی اور بجلی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کی دفعات میں ضروری تبدیلیاں نہیں ہوئیں۔
سید نظام الدین نے کہا کہ گزشتہ 27 برسوں میں تلنگانہ میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ شہر پھیل گئے، صنعتوں کی تعداد بڑھی اور ہزاروں تجارتی عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ اس کے باوجود فائر سیفٹی قانون پرانا رہا، جسے اب حکومت درست کر رہی ہے۔
نئی ترامیم میں سخت سزائیں اور وسیع جواب دہی | Fire Safety Reforms
سید نظام الدین کے مطابق مجوزہ ترامیم میں سنگین خلاف ورزیوں اور لاپروائی پر سزاؤں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ایسی لاپروائی جس کے نتیجے میں کسی شخص کی موت ہو، اس پر 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی خلاف ورزیوں پر 6 ماہ تک قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ برقی حفاظتی مہروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والوں پر بھی یہی مجوزہ سزا لاگو ہوگی۔ ان کے مطابق موجودہ جرمانے خطرناک طریقوں کی روک تھام کے لیے کافی نہیں تھے۔ عمارتوں میں حفاظتی خامیوں کے باوجود مالکان نسبتاً کم جرمانوں کے ساتھ بچ نکلتے تھے۔
سید نظام الدین نے کہا کہ آگ سے تحفظ کی خلاف ورزیوں کو معمولی جرم نہیں سمجھنا چاہیے۔ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس تجویز کو عوامی تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔
مجوزہ ترامیم کے تحت عمارتوں کے مالکان اور وہاں رہنے یا کاروبار کرنے والے افراد پر بھی ذمہ داری عائد ہوگی۔ انہیں آگ بجھانے کے آلات نصب کرنے اور ان کی دیکھ بھال یقینی بنانا ہوگی۔ اس طرح جواب دہی صرف عمارت کے مالک تک محدود نہیں رہے گی۔
دیگر عمارتوں تک حفاظتی ضابطوں کی توسیع کا بھی خیرمقدم | Fire Safety Reforms
مزید برآں، ڈائریکٹر جنرل فائر سروسز کو غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کے اختیارات دینے کی تجویز ہے۔ وہ نوٹس جاری کر سکیں گے اور ضابطوں پر عمل نہ کرنے والی عمارتوں کو سیل بھی کر سکیں گے۔ ترجمان کے مطابق پہلے ان میں سے بیشتر اختیارات بلدیاتی اداروں کے پاس تھے، جس سے تاخیر اور نگرانی میں خلا پیدا ہوتا تھا۔
انہوں نے بلند عمارتوں کے علاوہ دیگر عمارتوں تک حفاظتی ضابطوں کی توسیع کا بھی خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق چھوٹی تجارتی عمارتوں، گوداموں، صنعتی یونٹس اور مخلوط استعمال کی عمارتوں میں بھی بڑے حادثات پیش آئے ہیں۔ موجودہ قانونی نظام میں ان عمارتوں کو مناسب تحفظ حاصل نہیں تھا۔
مجوزہ قانون میں عمارتوں کو اے، بی اور سی زمروں میں تقسیم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے تحت خطرے کی سطح کے مطابق حفاظتی شرائط نافذ ہوں گی۔ ان میں فائر این او سی، فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ اور خود تصدیقی نظام شامل ہوں گے۔
اسی دوران، سرٹیفکیٹس کی مقررہ مدت پر تجدید اور آزادانہ حفاظتی آڈٹ کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ سید نظام الدین کے مطابق ان اقدامات سے قانون پر عمل درآمد کی نگرانی بہتر ہوگی۔ عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ جانچ بھی ممکن ہو سکے گی۔
مہلک آتشزدگی کے واقعات کے بعد اصلاحات کی ضرورت | Fire Safety Reforms
سید نظام الدین نے مجوزہ ترامیم کو تلنگانہ میں بڑھتے ہوئے آتشزدگی کے واقعات سے جوڑا۔ ان کے مطابق 2025 کے دوران ریاست میں آگ لگنے کے 8,861 واقعات درج ہوئے۔ ان حادثات میں 163 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ املاک کا نقصان تقریباً 880 کروڑ روپے رہا۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ ریاست کے قیام کے بعد یہ سب سے زیادہ اموات کا ریکارڈ تھا۔ انہوں نے حیدرآباد کے گلزار حوض میں 18 مئی 2025 کو پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کا حوالہ دیا۔ اس سانحے میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انہوں نے جون 2025 میں سنگاریڈی ضلع کے پاشامائلارم میں سگاچی انڈسٹریز کے حادثے کا بھی ذکر کیا۔ اس صنعتی سانحے میں درجنوں کارکنوں کی جان گئی تھی۔ مزید برآں، انہوں نے 2022 کے بوئی گوڑہ اسکریپ گودام سانحے اور سکندرآباد کے ہوٹل میں آتشزدگی کا حوالہ دیا۔ ان دونوں واقعات میں بھی کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سید نظام الدین کے مطابق ان حادثات نے بار بار سامنے آنے والی حفاظتی خامیوں کو اجاگر کیا۔ ان میں برقی شارٹ سرکٹ، پرانی وائرنگ اور ہنگامی راستوں کی بندش شامل ہیں۔ ناکافی آلات اور ضابطوں پر کمزور عمل درآمد نے بھی خطرات بڑھائے۔
انہوں نے کہا کہ ان غلطیوں کو دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق حادثات سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہے۔ عمارتوں کے معائنے، فعال فائر فائٹنگ نظام اور ہنگامی راستوں کی دستیابی انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بی آر ایس حکومت پر اصلاحات میں تاخیر کا الزام | Fire Safety Reforms
تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان نے سابقہ بی آر ایس حکومت پر قانون کو جدید بنانے میں ناکامی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ 1999 کے قانون میں ترمیم کی ضرورت کئی سال پہلے سامنے آ چکی تھی۔ فائر سروسز ڈپارٹمنٹ نے بھی سابقہ حکومت کے دور میں قانون مضبوط بنانے کی تجاویز پیش کی تھیں۔
تاہم، سید نظام الدین کے مطابق کئی بڑے حادثات کے باوجود بی آر ایس حکومت نے مؤثر اصلاحات نافذ نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے تقریباً 10 سال تلنگانہ پر حکومت کی۔ اس دوران کئی سنگین آتشزدگی کے واقعات ہوئے، لیکن پرانا قانون بڑی حد تک برقرار رہا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ان اصلاحات کو آگے بڑھایا ہے جنہیں برسوں نظرانداز کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق نئی تجاویز عوامی تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے سابقہ حکومت کی تاخیر کو بھی اپنی تنقید کا اہم نکتہ بنایا۔
ہنگامی راستوں کو کھلا رکھنے پر بھی زور | Fire Safety Reforms
سید نظام الدین نے مجوزہ فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی فنڈ کا بھی خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق اس فنڈ سے تلنگانہ میں فائر سروسز کو جدید بنانے کے لیے اضافی وسائل دستیاب ہوں گے۔ اس سے آگ بجھانے کے آلات بہتر بنانے اور فائر اسٹیشنوں کا دائرہ بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فنڈ سے عملے کی تربیت اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان کے مطابق اصلاحات کا بنیادی مقصد حادثے کے بعد سزا دینا نہیں بلکہ پہلے ہی روک تھام کرنا ہے۔ اس لیے عمارتوں کے مالکان، قابضین اور تجارتی اداروں کو حفاظتی آلات فعال رکھنے چاہئیں۔
انہوں نے برقی تنصیبات کی باقاعدہ جانچ اور ہنگامی راستوں کو کھلا رکھنے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق صرف قانون میں سخت سزائیں شامل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ عملی سطح پر معائنے اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
منظوری اور نفاذ کا عمل جلد مکمل کرنے کا مطالبہ | Fire Safety Reforms
سید نظام الدین نے حکام سے باقی منظوریوں کا عمل جلد مکمل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے واضح نفاذی قواعد اور موجودہ عمارتوں کے لیے مناسب تعمیلی مدت مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق عمارتوں کو نئے حفاظتی تقاضے پورے کرنے کے لیے واضح رہنمائی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی کوئی سیاسی رعایت نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ گلزار حوض، پاشامائلارم، بوئی گوڑہ اور دیگر سانحات میں ضائع ہونے والی جانیں واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ تاہم، قانون مضبوط بنا کر اور عمل درآمد بہتر کرکے ایسے واقعات روکے جا سکتے ہیں۔
سید نظام الدین نے ان ترامیم کو وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی عوامی تحفظ بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ منظوری اور نفاذ کے بعد جواب دہی میں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق سخت نگرانی اور مؤثر حفاظتی اقدامات تلنگانہ بھر میں انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
