حیدرآباد میں ملاوٹی دودھ کا یونٹ بے نقاب | Adulterated Milk Racket
حیدرآباد:۔ رنگاریڈی ضلع کے ابراہیم پٹنم منڈل میں پولیس نے ملاوٹی دودھ تیار کرنے والے ایک یونٹ کا انکشاف کیا ہے۔ مہیشورم ایس او ٹی پولیس نے پوچارم گاؤں میں ایک مکان پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق، یہاں تیار ہونے والا دودھ حیدرآباد کے صارفین کو سپلائی کیا جارہا تھا۔
چھاپے کے دوران پولیس نے 100 لیٹر دودھ ضبط کیا۔ اس کے علاوہ ایک لیٹر ہائیڈروجن پرآکسائیڈ اور دھول پور دودھ پاؤڈر کے 35 پیکٹ بھی برآمد ہوئے۔ ہر پیکٹ کا وزن 1 کلوگرام تھا۔
پولیس نے یونٹ چلانے والے شخص کی شناخت 43 سالہ آندے سری سیلم کے طور پر کی ہے۔ وہ پوچارم کا رہنے والا ہے اور دودھ کا کاروبار کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق، وہ مبینہ طور پر دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ اور دھول پور دودھ پاؤڈر ملاتا تھا۔
حیدرآباد کی منڈیوں میں سپلائی کا منصوبہ | Adulterated Milk Racket
غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع ملنے پر مہیشورم ایس او ٹی ٹیم نے اچانک تلاشی لی۔ پولیس نے سری سیلم کے مکان پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ملاوٹی دودھ کی تیاری کا انکشاف کیا۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ سری سیلم نے یہ دودھ حیدرآباد میں فروخت کے لیے سپلائی کرنے کا انتظام کیا تھا۔ اسی بنیاد پر اہلکاروں نے اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کردی۔
پولیس نے سری سیلم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مزید برآں، حکام حیدرآباد کو دودھ کی سپلائی کے پورے نیٹ ورک کی تحقیقات کررہے ہیں۔ پولیس اس معاملے میں مزید تفصیلات جمع کررہی ہے۔
