اتم کمار ریڈی کی انتخابی حقوق کی مہم کی حمایت | Electoral Rights Campaign
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر آبپاشی، خوراک اور شہری رسد کیپٹن این اتم کمار ریڈی نے انتخابی حقوق کی مہم کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے منگل کو راہل گاندھی کی کوششوں کو جمہوری عمل میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ہر اہل شہری کا ووٹ کا حق محفوظ رہنا چاہیے۔ مزید برآں، انہوں نے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق ہر اہل ووٹر کو ووٹ ڈالنے کا موقع ملنا ضروری ہے۔ اسی طرح ووٹوں کی گنتی کے دوران بھی سب کے ساتھ منصفانہ سلوک ہونا چاہیے۔
وزیر نے انتخابی فہرستوں میں غلطیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے نظرثانی کے عمل میں شفافیت اور مبینہ جانبداری سے متعلق سوالات اٹھائے۔ لہٰذا، انہوں نے الیکشن کمیشن سے شفاف تحقیقات اور قابل اعتماد وضاحتوں کا مطالبہ کیا۔
راہل گاندھی کی مہم اور اپوزیشن کا اتحاد | Electoral Rights Campaign
اتم کمار ریڈی نے دہلی میں انڈیا اتحاد کی سیاسی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے انتخابی جواب دہی کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کا سہرا راہل گاندھی کو دیا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اس مہم نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) پر توجہ مرکوز کی۔
وزیر نے 12 اکتوبر کے مارچ کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے ہزاروں قائدین، کارکنوں اور حامیوں کی قیادت کی۔ یہ مارچ سپریم کورٹ کی جانب روانہ ہوا تھا۔ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔
بعد ازاں، اپوزیشن نے متنازع عمل کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کی۔ اتم کمار ریڈی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اہم قرار دیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن اور اس کے کمشنروں سے جواب طلب کیا تھا۔ یوں، اس فیصلے نے ان خدشات کو دور کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
اتم کمار ریڈی نے کہا کہ انتخابی طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات کی شفاف جانچ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، متعلقہ اداروں کو قابل اعتماد جوابات بھی دینے چاہئیں۔
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج | Electoral Rights Campaign
اتم کمار ریڈی نے 31 اکتوبر کو انڈیا اتحاد کی علامتی عوامی کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ یہ کارروائی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کی گئی تھی۔ سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے اس کارروائی کی صدارت کی۔
اسی دوران، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف 6 الزامات شامل تھے۔ تاہم، اتم کمار ریڈی نے واضح کیا کہ یہ اقدام سیاسی احتجاج تھا۔ یہ آئینی طریقہ کار کے تحت باقاعدہ مواخذہ نہیں تھا۔
وزیر نے بعد کے مارچ اور عوامی جلسے کا بھی حوالہ دیا۔ یہ مارچ دہلی کے رام لیلا میدان میں نکالا گیا تھا۔ ان کے مطابق ان سرگرمیوں نے اپوزیشن کا مؤقف عوام تک پہنچایا۔ اپوزیشن انتخابی جواب دہی کے معاملات براہ راست عوام کے سامنے اٹھانا چاہتی تھی۔
اتم کمار ریڈی نے ان احتجاجی سرگرمیوں کو وسیع تر انتخابی مسائل سے جوڑا۔ ان میں انتخابی شفافیت، ووٹروں کا اعتماد اور انتخابی فہرستوں کی منصفانہ نظرثانی شامل ہیں۔ انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ ووٹ کے حق کی مہم اہل شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ مزید برآں، اس مہم کا مقصد انتخابی طریقہ کار کو شفاف اور جواب دہ بنانا ہے۔
