تمام محکموں میں اے آئی کے ٹی آر کا اعلان | Telangana AI Integration
حیدرآباد:۔ بی آر ایس قائد و سابق ریاستی صدر کے ٹی آر نے پیر کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی انسانیت کے لیے ایک وسیلہ اور آلہ ہونا چاہیے۔ لوگوں کو اس ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اقتدار میں واپس آکر تمام سرکاری محکموں میں اے آئی شامل کرے گی۔
کے ٹی آر نے نانک رام گوڑہ کے شیراٹن ہوٹل میں کیمپس ہب اے آئی پروڈکٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 4 نوجوانوں کی کوششوں کو سراہا۔ ان نوجوانوں نے مل کر یہ پروڈکٹ تیار کیا ہے۔ کے ٹی آر نے انہیں معاشرے کے لیے قابل تقلید مثال قرار دیا۔
انہوں نے نوجوانوں کے روزگار پیدا کرنے کے جذبے کی بھی تعریف کی۔ ان کے مطابق، نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے کے بجائے ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف اپنانا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں سے بڑے خواب دیکھنے اور نئے خیالات پیش کرنے کی اپیل کی۔ اسی دوران، انہوں نے ناکامیوں کو تجربہ سمجھ کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔
مصنوعی ذہانت کا انسانی مسائل کے حل میں استعمال | Telangana AI Integration
کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ نے ماضی میں آئی ٹی شعبے کو خاص اہمیت دی۔ تاہم، اب دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اس لیے لوگوں کو بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی صرف تکنیکی ترقی تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اسے عوامی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ضرورت کے مطابق اے آئی کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بھی خبردار کیا۔
کے ٹی آر نے نئی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت اجاگر کی۔ انہوں نے دوبارہ تربیت اور موجودہ مہارتوں کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، بدلتے حالات میں نئی چیزیں سیکھنا ضروری ہے۔
’اے آئی فار ایگریکلچر انوویشن‘ اور ’ساگو باگو‘ پروگراموں کا ذکر | Telangana AI Integration
انہوں نے یاد دلایا کہ بی آر ایس حکومت نے اے آئی کو ترجیح دی تھی۔ ان کے مطابق، حکومت نے 2020 کو ’اے آئی کا سال‘ قرار دیا تھا۔ اس وقت زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر توجہ دی گئی۔ اسی مقصد کے تحت کسانوں تک ٹیکنالوجی پہنچانے کی کوشش ہوئی۔
کے ٹی آر نے ویرناپلی میں ’اے آئی فار ایگریکلچر انوویشن‘ اور ’ساگو باگو‘ پروگراموں کا ذکر کیا۔ یہ پروگرام سرسلہ علاقے میں شروع کیے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کسان موبائل فون سے فصل کے پتوں کی تصویر بھیج سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے انہیں فصلوں کے کیڑوں اور ان کی روک تھام سے متعلق مشورہ مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی تعلیمی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ہر طالب علم کی سیکھنے کی صلاحیت اور ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ لہٰذا، مصنوعی ذہانت ہر طالب علم کے مطابق تدریس فراہم کر سکتی ہے۔
کے ٹی آر نے اسکولوں کے مسائل حل کرنے والی نئی مصنوعات کا خیرمقدم کیا۔ ان مصنوعات سے اسکول انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ اور والدین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کیمپس ہب اے آئی سمیت دیگر مصنوعات کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
چھوٹے شہروں میں آئی ٹی صنعتوں کی توسیع | Telangana AI Integration
کے ٹی آر نے کہا کہ آئی ٹی صنعتیں صرف حیدرآباد تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ انہوں نے ورنگل، کریم نگر، نلگنڈہ، محبوب نگر اور عادل آباد میں توسیع کی امید ظاہر کی۔ ان کے مطابق، چھوٹے شہروں میں بھی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے پرکالہ میں ڈی جی یودھا تنظیم قائم کرنے پر راکیش کو مبارک باد دی۔ اس تنظیم کے ذریعے مقامی سطح پر تقریباً 267 افراد کو روزگار ملا ہے۔ کے ٹی آر نے اس کوشش کو سراہا۔
انہوں نے بیلم پلی اور کریم نگر علاقوں کے نوجوانوں کی مثالیں بھی پیش کیں۔ ان نوجوانوں نے آئی ٹی کمپنیاں قائم کرکے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ان کے مطابق، مستقل مزاجی اور مناسب منصوبہ بندی سے چھوٹے شہروں میں بھی آئی ٹی صنعت ترقی کر سکتی ہے۔
کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس 2 سال بعد اقتدار میں ضرور واپس آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی تمام شعبوں میں اے آئی کو اولین ترجیح دے گی۔ ان شعبوں میں زراعت، طب اور تعلیم شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، تلنگانہ بھر میں آئی ٹی شعبے کی توسیع کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں اے آئی لوگوں کے سوچنے، کام کرنے اور سیکھنے کے انداز بدل دے گی۔ یہ ٹیکنالوجی طرز زندگی پر بھی اثر انداز ہوگی۔ انہوں نے ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کی دستیابی کا حوالہ دیا۔
کے ٹی آر نے لینڈ لائن فون سے اسمارٹ فون تک ہونے والی ترقی کا ذکر بھی کیا۔ ان کے مطابق، ٹیکنالوجی نے اس عرصے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اسی طرح، مستقبل میں مصنوعی ذہانت بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
