نیریڈکو تلنگانہ پراپرٹی شو 2026 اختتام پذیر | Telangana Property Show
حیدرآباد:۔ نیریڈکو تلنگانہ پراپرٹی شو 2026 کا 16 واں ایڈیشن یکم نومبر کو اختتام پذیر ہوگیا۔ یہ 3 روزہ نمائش حیدرآباد کے ہائی ٹیکس ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔ اس میں بلڈرز، مالیاتی اداروں، متعلقہ صنعتوں اور گھر خریداروں نے شرکت کی۔
اختتامی تقریب میں مرکزی وزیر کوئلہ و کانکنی گنگاپورم کشن ریڈی مہمان خصوصی تھے۔ دیگر اہم شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ کشن ریڈی سکندرآباد کے رکن پارلیمنٹ بھی ہیں۔
500 سے زائد منصوبے نمائش کا حصہ | Telangana Property Show
اس پراپرٹی شو میں 75 ڈیولپرز اور بلڈرز نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ، 5 مالیاتی ادارے اور متعلقہ صنعتوں کے 10 نمائندے بھی شریک ہوئے۔ نمائش میں مختلف علاقوں اور بجٹ کے مکانات پیش کیے گئے۔
زائرین نے اپارٹمنٹس، ولاز اور پلاٹوں پر مشتمل منصوبوں کا جائزہ لیا۔ تجارتی جائیدادوں کے کئی مواقع بھی نمائش میں پیش کیے گئے۔ مجموعی طور پر 500 سے زائد منصوبے گھر خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب تھے۔
اس نمائش نے خریداروں کی بدلتی ترجیحات اور مارکیٹ کے رجحانات بھی سامنے رکھے۔ ڈیولپرز اور صنعت سے وابستہ افراد کو مختلف جائیدادوں میں دلچسپی دیکھنے کو ملی۔ اسی دوران، زائرین کی پوچھ گچھ نے خریداروں اور سرمایہ کاروں کی متنوع ضروریات ظاہر کیں۔
یہ سرگرمیاں صارفین اور رئیل اسٹیٹ صنعت کے درمیان براہ راست رابطے کی اہمیت بھی واضح کرتی ہیں۔ مزید برآں، نمائش نے مختلف شعبوں میں نئے کاروباری مواقع پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا۔
رئیل اسٹیٹ میں بھارت کی ترقی پر کشن ریڈی کا بیان | Telangana Property Show
کشن ریڈی نے کہا کہ بھارت 2026 کے عالمی رئیل اسٹیٹ شفافیت انڈیکس میں پہلے 30 ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق، ایشیا پیسیفک خطے میں بھارت سب سے زیادہ بہتری دکھانے والی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
کشن ریڈی کے مطابق، رئیل اسٹیٹ شعبہ بھارت کی مجموعی قومی پیداوار میں 7 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2030 تک یہ حصہ 13 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے ہر خاندان کے لیے معیاری گھر کی دستیابی کو ضروری قرار دیا۔
مرکزی وزیر نے صنعت سے وابستہ تمام افراد پر زور دیا کہ وہ رئیل اسٹیٹ کو صرف کاروبار نہ سمجھیں۔ ان کے مطابق، یہ شعبہ زمین، عمارتوں اور لین دین تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ لوگوں کی ضروریات اور ان کے خوابوں سے جڑا کاروبار ہے۔
بلڈرز کا جی ایس ٹی میں رعایت اور ریرا احکامات پر نظرثانی کا مطالبہ | Telangana Property Show
نیریڈکو تلنگانہ کے صدر سری دھر ریڈی کوپولا نے رئیل اسٹیٹ کو ملک کا سب سے زیادہ دولت پیدا کرنے والا شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی سامان کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ اس اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ڈیولپرز برداشت کررہے ہیں۔
کوپولا کے مطابق، تجارتی اور کرایے کی جائیدادوں پر اب بھی 18 فیصد جی ایس ٹی عائد ہے۔ انہوں نے وزارت سے یہ ٹیکس ختم کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے صنعت کو 2047 کے وژن کی تکمیل میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعمیراتی شعبے کی مدد کے لیے بعض اقدامات کیے ہیں۔ ان میں ریرا کی مدت میں توسیع اور ٹارگٹ گارنٹیز شامل ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔
کوپولا نے حکومت سے احکامات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیولپرز کو تعمیرات مکمل کرنے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ اس سے منصوبے درمیان میں رکنے سے بچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معمولی تبدیلیاں بھی صنعت کی ترقی اور قومی دولت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
نیریڈکو تلنگانہ پراپرٹی شو کا 16 واں ایڈیشن مارکیٹ کے رجحانات اور خریداروں کی ترجیحات سامنے لایا۔ اس نمائش نے مختلف شعبوں میں نئے مواقع کی نشاندہی بھی کی۔ یوں، صنعت اور صارفین کے درمیان تعاون اور باخبر فیصلوں کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔
