26.02 کروڑ کے سائبر فراڈ پر ای ڈی کے چھاپے | Stock Market Fraud Probe
حیدرآباد:۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 26.02 کروڑ روپے کے اسٹاک مارکیٹ سائبر فراڈ معاملے میں حیدرآباد کے 3 مقامات پر تلاشی لی۔ کوچی زونل آفس کی ٹیم نے مرکزی ملزم آلم راجو ستیہ نارائنا مورتی کی رہائش گاہوں اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا۔
یہ معاملہ کیرالا کے ضلع ارناکولم کے ایک تاجر سے متعلق ہے۔ متاثرہ تاجر کی شناخت نمیش کے طور پر ہوئی ہے۔ سائبر دھوکہ بازوں نے ٹیلی گرام پیغامات اور فون کالز کے ذریعے اس سے رابطہ کیا۔ انہوں نے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی۔ مزید برآں، انہوں نے مختصر مدت میں بھاری منافع کا وعدہ کیا۔
سرمایہ کاری کے نام پر 26.02 کروڑ کا مبینہ فراڈ | Stock Market Fraud Probe
متاثرہ شخص نے مختلف بینک کھاتوں میں قسطوں کے ذریعے 24.76 کروڑ روپے منتقل کیے۔ یہ لین دین 23 مئی 2023 سے 27 مئی 2024 کے درمیان ہوا۔ وعدہ کردہ منافع کو شامل کرنے کے بعد مبینہ دھوکہ دہی کی رقم 26.02 کروڑ روپے ہوگئی۔
آپریٹروں نے سرمایہ کاری اور منافع واپس نہیں کیا تو نمیش کو دھوکہ دہی کا احساس ہوا۔ اس کے بعد اس نے ارناکولم سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس کی ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی نے تحقیقات شروع کیں۔ یہ کارروائی انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت شروع کی گئی۔
شیل کمپنیوں اور مشتبہ جائیدادوں کا انکشاف | Stock Market Fraud Probe
تلاشی کے دوران ای ڈی حکام کو کئی شیل کمپنیوں کے مبینہ استعمال کا پتہ چلا۔ حکام کے مطابق، ستیہ نارائنا مورتی نے یہ کمپنیاں خاندان کے افراد اور ملازمین کے نام پر رجسٹر کرائی تھیں۔
کارروائی کے دوران ضبط دستاویزات میں مشتبہ رقم کی منتقلی کا ریکارڈ ملا۔ یہ لین دین بی ٹی آر انڈسٹریز، ویلوگو ٹریڈنگ کمپنی، آسرتھا میگا سولیوشنس اور آسرتھا انفرا پروجیکٹس سے منسلک کھاتوں کے ذریعے ہوا تھا۔
ای ڈی نے کارروائی کے دوران 6.40 لاکھ روپے نقد ضبط کیے۔ حکام نے ڈیجیٹل شواہد اور اہم دستاویزات بھی جمع کیں۔ مزید برآں، ملزم سے منسلک 11 بینک کھاتوں میں موجود 14 لاکھ روپے منجمد کردیے گئے۔
5 کروڑ کی جائیدادوں کی بھی نشاندہی | Stock Market Fraud Probe
تحقیقاتی عہدیداروں نے تقریباً 5 کروڑ روپے مالیت کے پلاٹس اور ولاز کی نشاندہی کی۔ انہیں شبہ ہے کہ ملزم نے متاثرہ شخص سے حاصل کردہ رقم سے یہ جائیدادیں خریدی تھیں۔
دوسری جانب، ای ڈی کی تحقیقات اس مبینہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک بھی پھیل گئی ہیں۔ حکام نے باقی مبینہ سرغنوں کی شناخت اور ان کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات تیز کردی ہیں۔
