خشک سالی سے نمٹنے کے اقدامات کا خیرمقدم | Hyderabad Drought Preparedness
حیدرآباد:۔ حیدرآباد لوک سبھا حلقے کے کانگریس انچارج محمد ولی اللہ سمیر نے جمعہ کو چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ال نینو کے باعث ممکنہ خشک سالی سے نمٹنے کی تیاریوں کو سراہا۔ سمیر نے اعتماد ظاہر کیا کہ کانگریس حکومت شہریوں کو پانی، گرمی اور بجلی کے بحران سے بچائے گی۔ انہوں نے پرانے شہر کے کمزور خاندانوں پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔
ایک بیان میں محمد ولی اللہ سمیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے صورتحال کی سنگینی کو بروقت سمجھا۔ ریونت ریڈی نے کل جماعتی اجلاس بھی طلب کیا۔ انہوں نے ہنگامی منصوبہ بندی کا عمل بھی شروع کیا۔ سمیر کے مطابق، پینے کے پانی کو ترجیح دینا اور آبی ذخائر کی نگرانی ذمہ دارانہ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ال نینو ایک موسمیاتی مظہر ہے، جس پر کسی حکومت کا اختیار نہیں۔ تاہم، اصل اہمیت بروقت تیاری کی ہے۔ چیف منسٹر نے چیلنج کو پہلے ہی تسلیم کرلیا ہے۔ کانگریس کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کوششوں میں تعاون کریں۔ اس کے ساتھ کمزور محلوں کے مسائل بھی حکام تک پہنچائیں۔
بارش کی کمی اور آبی ذخائر کی صورتحال | Hyderabad Drought Preparedness
محمد ولی اللہ سمیر نے بارش کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق، تلنگانہ میں جنوب مغربی مانسون کے دوران 615.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ معمول کی بارش 740.6 ملی میٹر تھی۔ یوں، بارش میں 17 فیصد کمی درج کی گئی۔
حیدرآباد ضلع میں صورتحال زیادہ سنگین رہی۔ یہاں 458.2 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ معمول 627.2 ملی میٹر ہے۔ اس طرح ضلع میں 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چارمینار اور سعیدآباد منڈلوں میں بارش کی کمی تقریباً 47 فیصد رہی۔
سمیر نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت نے 365 منڈلوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا ہے۔ ان میں 111 منڈل شدید متاثرہ ہیں۔ باقی 254 منڈل درمیانے درجے سے متاثرہ ہیں۔ دوسری جانب، بڑے اور درمیانے آبی ذخائر میں پانی تقریباً 180 ٹی ایم سی رہ گیا ہے۔ ان ذخائر کی مجموعی گنجائش 585 ٹی ایم سی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ال نینو کی شدت 2027 کے اوائل تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس سے پینے کے پانی کی قلت طویل ہوسکتی ہے۔ زرعی مشکلات اور بجلی کی طلب پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ سمیر نے جولائی 2027 تک ممکنہ مشکلات سے متعلق چیف منسٹر کی پیشگی وارننگ کو سراہا۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کو خوف پھیلانے کے بجائے تیاری مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔
پرانے شہر کے محلوں کے لیے خصوصی انتظامات | Hyderabad Drought Preparedness
محمد ولی اللہ سمیر نے پرانے شہر کے گنجان آباد علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔ ان میں چارمینار، یاقوت پورہ، چندرائن گٹہ، بہادر پورہ، ملک پیٹ اور سعیدآباد شامل ہیں۔ اسی طرح، ان علاقوں کے کئی خاندان مکمل طور پر بلدی پانی کی فراہمی پر منحصر ہیں۔ ان کے گھروں میں پانی ذخیرہ کرنے کی مناسب سہولت بھی موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں خاندان چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس زیر زمین پانی کے ٹینک یا مناسب ذخیرہ گاہیں نہیں ہیں۔ لہٰذا، بلدی پانی کی فراہمی میں کمی سے انہیں شدید مشکلات ہوسکتی ہیں۔ حکومت کو ہنگامی منصوبے بناتے وقت ان حالات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
تنگ گلیوں کے لیے چھوٹے ٹینکروں کی تجویز | Hyderabad Drought Preparedness
سمیر نے حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی کوششوں کو سراہا۔ بورڈ متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم، آبی ذخائر کے ساتھ زیر زمین پانی کی سطح بھی گر رہی ہے۔
انہوں نے چھوٹے پانی کے ٹینکروں کی فراہمی تجویز کی۔ اس کے علاوہ، محلہ سطح پر پانی تقسیم کرنے کے مراکز قائم کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق، پانی کی فراہمی کا پیشگی شیڈول بھی جاری ہونا چاہیے۔ اس سے پرانے شہر کی ان تنگ گلیوں کو فائدہ ہوگا جہاں بڑے ٹینکر نہیں پہنچ سکتے۔
سمیر نے کہا کہ پرانے شہر کے بعض علاقوں میں زیر زمین پانی کی صورتحال پہلے نسبتاً بہتر رہی ہے۔ اس سے وہاں پانی کی قلت کے اثرات کم ہوسکتے ہیں۔ تاہم، بارش میں کمی اور زیر زمین پانی کے زیادہ استعمال سے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے پانی بچانا اور مقامی آبی ذخائر کا تحفظ ضروری ہے۔
شدید گرمی اور کمزور طبقوں کے تحفظ پر زور | Hyderabad Drought Preparedness
محمد ولی اللہ سمیر نے شدید گرمی کے خطرات کی بھی نشاندہی کی۔ گنجان تعمیرات اور ہوا کی کم آمدورفت سے گرمی کا اثر بڑھتا ہے۔ سبزہ کم ہونے سے بھی صورتحال خراب ہوتی ہے۔
ان کے مطابق، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان میں سڑکوں پر سامان فروخت کرنے والے اور آٹو ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ تعمیراتی مزدور، بزرگ شہری اور بچے بھی زیادہ خطرے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غریب خاندان مہنگے کولنگ انتظامات برداشت نہیں کرسکتے۔ اسی طرح، روزانہ اجرت کمانے والے شدید گرمی میں کام بند نہیں کرسکتے۔ لہٰذا، حکومتی تیاریوں میں ان کی صحت اور روزگار کو مرکزی اہمیت ملنی چاہیے۔
سمیر نے بجلی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کی حکومتی توجہ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے عوامی مقامات پر پینے کے پانی کے اضافی مراکز قائم کرنے کی تجویز دی۔ اس کے علاوہ، گرمی سے بچاؤ کی آگاہی مہمات چلانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کمزور محلوں میں ہنگامی طبی انتظامات پر بھی زور دیا۔
روزگار، غذائی قیمتیں اور نکاسی آب کے انتظامات | Hyderabad Drought Preparedness
سابق ڈی سی سی صدر نے خبردار کیا کہ خشک سالی سے زرعی نقصان ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ یوں، خاندانوں کے پانی، بجلی اور ضروری اشیا کے اخراجات بھی بڑھیں گے۔
انہوں نے حکومت کے مجوزہ روزگار امدادی اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق، معاشی طور پر کمزور طبقات کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کم بارش کے باوجود اچانک شدید بارش کا خطرہ ختم نہیں ہوتا۔
سمیر نے پرانے شہر میں نکاسی آب کے نظام کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے نالوں کی صفائی اور گاد نکالنے کی ضرورت بھی بیان کی۔ زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور پینے کے پانی کو آلودگی سے بچانے کی اپیل کی۔
محمد ولی اللہ سمیر نے حیدرآباد لوک سبھا حلقے کے کانگریس کارکنوں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارکن پانی بچانے کی مہمات میں حصہ لیں گے۔ وہ مختلف محلوں سے مقامی مسائل اور عوامی تجاویز بھی جمع کریں گے۔ بعد ازاں، یہ شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائی جائیں گی۔
انہوں نے شہریوں سے پانی ضائع نہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے پانی کی لیکیج درست کرنے اور حکومتی اقدامات میں تعاون کی بھی درخواست کی۔
سمیر نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت اس غیر معمولی موسمیاتی چیلنج سے سنجیدگی سے نمٹ رہی ہے۔ حکومت پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے ممکنہ مشکلات کم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکن عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ بالخصوص، پرانے شہر کے کمزور خاندانوں کو ضروری تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
