میاں پور اراضی معاملہ: حکومت کو بڑی راحت | Miyapur Land Dispute
حیدرآباد:۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے قریبی افراد نے میاں پور میں تقریباً 550 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، تلنگانہ حکومت کو اس معاملے میں سپریم کورٹ سے موافق فیصلہ ملا ہے۔
ریونت ریڈی نے اس زمین کی مالیت تقریباً 50,000 کروڑ روپے بتائی۔ وہ دہلی کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے محصولات کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی تھیں۔ ان تبدیلیوں کے ذریعے زمین اپنے قریبی افراد اور بعض نجی لوگوں کو منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔
میاں پور اراضی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ | Miyapur Land Dispute
چیف منسٹر نے سابق حکومت پر عدالتی کارروائی میں سرکاری زمین کا مؤثر دفاع نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ تاہم، اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت نے سپریم کورٹ میں مضبوط دلائل پیش کیے۔
ریونت ریڈی کے مطابق، حکومت کو اس کے بعد موافق فیصلہ حاصل ہوا۔ چنانچہ، انہوں نے عہدیداروں کو فوری طور پر زمین کا قبضہ حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت یہ زمین فروخت بھی کرسکتی ہے۔
ان کے مطابق، فروخت سے حاصل ہونے والی رقم غریب عوام کی فلاح پر خرچ ہوگی۔ حکومت اس رقم سے ریاست کے تعلیمی نظام کو بھی مضبوط بنائے گی۔
دیگر سرکاری اراضی کی بازیابی کی کارروائی | Miyapur Land Dispute
ریونت ریڈی نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ پر بھی الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے منچیریوولا میں 143 ایکڑ سرکاری زمین نجی افراد کو منتقل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، حکومت نے عدالت میں مقدمہ لڑ کر یہ زمین واپس حاصل کرلی۔ اس میں سے 50 ایکڑ ینگ انڈیا پولیس اسکول کے لیے مختص کی گئی ہے۔
چیف منسٹر نے آئی ایم جی اراضی تنازعے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں عدالت کے سامنے مضبوط دلائل پیش کررہی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ قابضین نے ان زمینوں پر قبضہ کررکھا تھا۔
انہوں نے سروے نمبر 325 میں 388 ایکڑ زمین کا معاملہ بھی اٹھایا۔ یہ زمین شیری وینکٹاپور اور ایراولی گاؤں کے علاقوں میں واقع ہے۔ ریونت ریڈی کے مطابق، بعض افراد نے سرکاری سروے روکنے کی کوشش کی۔ جب عہدیدار سروے کے لیے پہنچے تو انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
چیف منسٹر نے بتایا کہ ایراولی میں اب سروے جاری ہے۔ حکومت 388 ایکڑ زمین واپس حاصل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔
ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے تقریباً 1.5 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی سرکاری زمین محفوظ کی ہے۔ انہوں نے اس مبینہ قبضہ گروپ کو کلواکنٹلا گروپ قرار دیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے کے چندر شیکھر راؤ سے اپیل کی کہ وہ اپنے قریبی افراد کو سرکاری زمینوں پر قبضے سے روکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ بھر میں انفرادی اراضی قبضوں کے معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام ہر معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ریونت ریڈی کے مطابق، عوام ان تمام پیش رفتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
