ہر گرام پنچایت کے لیے ترقیاتی منصوبہ تیار ہوگا | GPSAP Village Development
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے ہر گرام پنچایت کی ترقی کے لیے نیا پروگرام متعارف کرایا ہے۔ اس پروگرام کا نام جی پی ایس اے پی-2026 رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد 2047 تک دیہات کو خودکفیل بنانا ہے۔ اسی سلسلے میں پنچایت راج اور دیہی ترقی کے محکمے نے ریاست بھر میں نفاذ کے احکامات جاری کیے ہیں۔
محکمے نے یہ فریم ورک پنچایت راج کی وزیر ڈاکٹر دھن ساری انسویا (سیتکا) کی ہدایات پر تیار کیا ہے۔ حکومت ہر گاؤں کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبہ بنانا چاہتی ہے۔ مزید برآں، اس منصوبے میں مقامی ترجیحات کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
ہر گاؤں کی تفصیلی پروفائل تیار ہوگی | GPSAP Village Development
پروگرام کے تحت حکام پہلے ہر گاؤں کی تفصیلی پروفائل تیار کریں گے۔ اس میں آبادی اور خاندانوں کے حالات کا جائزہ شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ، روزگار کے مواقع، رہائش اور مویشیوں کی تفصیلات بھی جمع کی جائیں گی۔
حکام سرکاری فلاحی اسکیموں تک عوام کی رسائی کا بھی جائزہ لیں گے۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہر گرام پنچایت کا ترقیاتی خاکہ تیار ہوگا۔ یہ منصوبہ 3 سے 5 سال کے لیے ہوگا۔ اسی دوران، حکام موجودہ سال کے لیے الگ سالانہ منصوبہ بھی بنائیں گے۔
نگرانی، شفافیت اور جواب دہی کا نظام | GPSAP Village Development
حکومت مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی کاموں کا انتخاب کرے گی۔ مختلف محکمے ان منصوبوں کی نشاندہی اور تکمیل کے لیے مل کر کام کریں گے۔ چنانچہ، ہر گرام پنچایت کے لیے الگ ویب سائٹ قائم کی جائے گی۔
حکام منصوبوں کی پیش رفت دیکھنے کے لیے علیحدہ ڈیش بورڈ بھی متعارف کرائیں گے۔ مزید برآں، گرام پنچایتیں اپنے ماہانہ اجلاسوں میں کاموں کا جائزہ لیں گی۔ ان اجلاسوں میں جی پی ایس اے پی-2026 کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکومت نے معلومات فراہم نہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی مقرر کی ہے۔ غلط معلومات جمع کرانے والے افسران بھی کارروائی کی زد میں آئیں گے۔ یہ کارروائی پنچایت سکریٹری سے لے کر ضلع کلکٹر سطح کے افسران تک ہوسکتی ہے۔
یہ پروگرام تلنگانہ رائزنگ-2047 کے وژن کا حصہ ہے۔ حکومت اس کے ذریعے شفاف اور جواب دہ انتظامیہ مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ بالآخر، منصوبہ بند ترقی کے ذریعے ہر گاؤں کو خودکفیل بنانے کا ہدف ہے۔
