Cancer Drug Prices | کینسر کی 397 دواؤں کی قیمت کم
حیدرآباد ۔ نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) کے فیصلے کے بعد کینسر کی جن 543 دواؤں کے برانڈز اور پیک کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت میں ردوبدل کیا گیا ہے، ان میں سے 397 کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں اور نئی شرحیں 9 نومبر سے نافذ ہوں گی۔
یہ تعداد فہرست کا 73 فیصد ہے۔ ان میں سے 217 دواؤں کی قیمت آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے۔ مزید یہ کہ 97 برانڈ پیک کی قیمت میں 70 فیصد سے زیادہ، 50 میں 80 فیصد سے زیادہ اور پانچ میں 90 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔
یہ تبدیلی حکومت کے اس حکم کے بعد آئی ہے جس میں کینسر کے علاج کی 137 دواؤں (سالٹس) پر ٹریڈ مارجن کو ایم آر پی کے 30 فیصد تک محدود کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دوا ساز کمپنیوں نے اتھارٹی کو نئی قیمتوں سے آگاہ کیا۔
تھائیوٹیپا انجکشن 80 ہزار سے گھٹ کر 7 ہزار روپے کے قریب | Cancer Drug Prices
سب سے بڑی کمی سیم ٹیپا میں ہوئی ہے، جو تھائیوٹیپا کا 100 ملی گرام کا ایک وائل والا انجکشن ہے۔ اس کی قیمت 80,071.86 روپے سے گھٹ کر 7,150.33 روپے ہو گئی ہے۔
مریضوں کو بڑی راحت پیلبوسیکلیب کے برانڈ پیلبوپرو میں بھی ملی ہے۔ اس کے 21 کیپسول والے پیک کی قیمت 40,421 روپے سے کم ہو کر 2,720 روپے رہ گئی ہے۔
کیٹروڈا اور رائبوسیکلیب سمیت 146 دواؤں کی قیمت جوں کی توں | Cancer Drug Prices
فہرست میں شامل 146 برانڈ پیک کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اور ان میں کئی مہنگی پیٹنٹ شدہ دوائیں بھی شامل ہیں۔
امیونوتھراپی کی دوا کیٹروڈا، جو 21 سے زیادہ اقسام کے کینسر کے علاج میں استعمال ہوتی ہے، اب بھی 2,16,500 روپے کی ہے۔ چھاتی کے کینسر میں استعمال ہونے والی رائبوسیکلیب کی قیمت بھی 24,435 روپے پر برقرار ہے۔ ٹیگریسو، ٹیسینٹرک، ڈارزالیکس اور امفنزی کی قیمتوں میں بھی کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔
اس سلسلے کی رپورٹ کے مطابق پیٹنٹ شدہ دواؤں کے معاملے میں عملی دشواری یہ ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی اور پیٹنٹ حقوق کے تحت آتی ہیں، اور قیمت کم کرنے پر کمپنیاں ہندوستان میں ان کی سپلائی گھٹا یا بند کر سکتی ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ مارجن ایسا ہونا چاہیے کہ مریضوں کو مہنگی دوا نہ خریدنی پڑے، لیکن اتنا کم بھی نہ ہو کہ کمپنیاں سپلائی روک دیں۔
پیٹنٹ دواؤں کی قیمت کچھ کم ہو سکتی تھی | Cancer Drug Prices
رپورٹ میں حکومت کی ٹریڈ مارجن ریشنلائزیشن پالیسی کی خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق اس فارمولے میں اسٹاکسٹ کی قیمت پر 42.8 فیصد تک مارجن کی گنجائش ہے، جو مہنگی دواؤں پر بہت بڑی رقم بن جاتی ہے، جبکہ کینسر کی دوائیں اکثر ایک دو بچولیوں سے گزرتی ہیں یا سیدھے اسپتالوں کو فروخت ہوتی ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ مریضوں کی امدادی اسکیموں کے تحت مفت دی جانے والی دواؤں کو حساب سے باہر رکھا گیا، حالانکہ انہیں شامل کرنے سے پیٹنٹ دواؤں کی قیمت کچھ کم ہو سکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ڈی پی سی او کے تحت مقررہ دواؤں پر لاگو 16 فیصد مارجن کی حد اگر کینسر کی دواؤں پر بھی لاگو ہوتی تو مریضوں کو زیادہ فائدہ ملتا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این پی پی اے کے پاس سپلائی چین میں قیمتوں کا ٹھوس ڈیٹا نہیں ہے اور کمپنیوں کو آزادانہ جانچ کے بغیر قیمتیں طے کرنے اور خود ہی ان کی اطلاع دینے کی چھوٹ دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے کینسر دواؤں کی اونچی قیمت کو نسل کشی کہا تھا | Cancer Drug Prices
کینسر کی دواؤں کی قیمتوں میں فرق کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی اٹھ چکا ہے۔ ستمبر کی 29 تاریخ کو ایک سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے مرکزی حکومت سے پوچھا تھا کہ 2,700 روپے کی کینسر کی دوا پر ایم آر پی 27,000 روپے کیوں ہے۔ عدالت نے دواؤں کی قیمتوں پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے نسل کشی قرار دیا تھا۔
بنچ دواؤں کی قیمتوں اور جنیرک ادویات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی، اور حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا پیش ہوئے تھے۔ عدالت نے سوال اٹھایا تھا کہ دوا کی خریداری قیمت اور مریض سے وصول کی جانے والی رقم کے درمیان اتنے بڑے فرق کو کیسے درست ٹھہرایا جا سکتا ہے، اور علاج کے بڑھتے مالی بوجھ اور قیمتوں پر کنٹرول کے نظام پر تشویش ظاہر کی تھی۔
عدالت نے حکومت سے یہ بھی پوچھا تھا کہ جب کینسر کی دواؤں پر مارجن طے کیا جا سکتا ہے تو دیگر دواؤں کی قیمتوں پر کنٹرول کیوں نہیں ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سپریم کورٹ میں 13 ہزار روپے کا انجکشن ایک لاکھ روپے سے زیادہ میں فروخت ہونے پر بھی سوال اٹھ چکا ہے۔
