Cyclone Arnab | آندھرا پردیش میں پانچ افراد ہلاک
وجئے واڑہ ۔ ریاستی حکام اور محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان ارنب نے بدھ کی صبح ساحل سے ٹکرانے کے بعد آندھرا پردیش میں کم از کم پانچ افراد کی جان لے لی، فصلیں اور مکانات تباہ کر دیے اور 25 لاکھ سے زائد بجلی کنکشن منقطع کر دیے، جس کے بعد یہ خشکی پر کمزور پڑ گیا۔
یہ انتہائی شدید سمندری طوفان آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلوں سے مغربی گوداوری ضلع کے نرساپور کے قریب ٹکرایا، جو باپٹلہ اور وشاکھاپٹنم کے درمیان اور یانم کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس دوران ہواؤں کی مسلسل رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی اور جھکڑ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچے۔
طوفان اب شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کو توقع ہے کہ شمال شمال مغرب میں اڈیشہ اور اندرونی علاقوں کی طرف بڑھتے ہوئے یہ جلد اپنی بیشتر شدت کھو دے گا۔
ہلاک شدگان کے خاندانوں کے لیے 5 لاکھ روپے کا اعلان | Cyclone Arnab
وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے پانچ اموات کی تصدیق کرتے ہوئے ہر متاثرہ خاندان کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ٹوٹے ہوئے بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے، درخت گرنے اور دیوار منہدم ہونے کے واقعات شامل ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی ابتدائی رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد تین بتائی گئی تھی۔
مختلف اعداد و شمار کے مطابق آندھرا پردیش میں تقریباً 57 ہزار سے 84 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ اڈیشہ میں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ کاکیناڈا، کوناسیما، وشاکھاپٹنم، اناکاپلی، مشرقی گوداوری، مغربی گوداوری اور کرشنا اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے، اور کاکیناڈا سیلاب اور تیز ہواؤں سے بری طرح متاثر ہونے والے اضلاع میں شامل ہے۔ پولیس نے سیلابی پانی میں پھنسے لوگوں کو بچایا۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً 70,900 ہیکٹر پر دھان اور 10,450 ہیکٹر پر باغبانی کی فصلیں ڈوب گئیں یا خراب ہوئیں، جبکہ لگ بھگ 180 مکانات متاثر ہوئے۔ شمالی اور وسطی آندھرا پردیش میں ہزاروں بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفارمر خراب ہوئے، سیکڑوں درخت اکھڑ گئے اور کئی سڑکیں بند یا خستہ ہو گئیں۔ وشاکھاپٹنم اور وجئے واڑہ ہوائی اڈوں پر درجنوں پروازیں منسوخ ہوئیں اور کئی ٹرینیں منسوخ یا متاثر ہوئیں۔
نائیڈو نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی ٹیمیں بھیجنے کی درخواست کی ہے اور حکام کو گرے ہوئے درخت ہٹانے اور بجلی جلد بحال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو چاول اور ضروری اشیا دی جا رہی ہیں، کیمپوں میں مقیم افراد کو نقد امداد مل رہی ہے، اور خراب مکانات و فصلوں کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
بھدرادری کوتہ گوڑم میں 47.3 ملی میٹر تک بارش | Cyclone Arnab
تلنگانہ براہ راست طوفان کی زد میں نہیں آیا، تاہم 28 اکتوبر کو طوفان کے بیرونی حصوں سے کئی مشرقی اور جنوبی اضلاع میں ہلکی سے درمیانی بارش ہوئی اور درجہ حرارت میں کمی آئی۔
تلنگانہ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائٹی اور محکمہ موسمیات حیدرآباد کے مطابق دوپہر تک آٹھ اضلاع میں 2 ملی میٹر سے تقریباً 22 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ کھمم، ملگ، سوریاپیٹ اور بھدرادری کوتہ گوڑم کے کچھ حصوں میں 10 سے 21.3 ملی میٹر، جبکہ نلگنڈہ، محبوب آباد، ورنگل اور جے شنکر بھوپال پلی میں 10 ملی میٹر تک بارش ہوئی۔
صبح ساڑھے 8 بجے سے شام 7 بجے کے درمیان بھدرادری کوتہ گوڑم کے اشوا راؤپیٹ منڈل میں 47.3 ملی میٹر اور دماپیٹ میں 32.8 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ کوتہ گوڑم اور کھمم کے کئی دیگر منڈلوں میں 20 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ ضلع انتظامیہ نے عملے کو چوکس رہنے کی ہدایت دی اور چھٹیاں منسوخ کر دیں، جبکہ بھدرادری کوتہ گوڑم میں احتیاطاً اسکولوں، کالجوں اور آنگن واڑی مراکز میں تعطیل کا اعلان کیا گیا۔
اچانک سیلاب کے درمیانے سے زیادہ خطرے کی وارننگ | Cyclone Arnab
سابق کھمم ضلع کے کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بارش سے کٹائی کے لیے تیار یا منڈی لے جائی جا رہی خریف کی دھان اور کپاس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے برعکس کئی شہریوں نے طویل خشک موسم اور دن کی تیز گرمی کے بعد بارش کا خیرمقدم کیا۔
محکمہ موسمیات نے کھمم، بھدرادری کوتہ گوڑم، نلگنڈہ اور سوریاپیٹ کے لیے شدید سے بہت شدید بارش کا اورنج الرٹ، اور جے شنکر بھوپال پلی، ملگ، محبوب آباد، ورنگل اور ہنمکنڈہ کے لیے گرج چمک، آسمانی بجلی اور تیز ہواؤں کا یلو الرٹ جاری کیا۔ کھمم، بھدرادری کوتہ گوڑم اور ملگ کے آبی علاقوں میں اچانک سیلاب کے درمیانے سے زیادہ خطرے کی وارننگ بھی دی گئی۔
منگل کی شام تک کے 24 گھنٹوں میں ریاست بھر میں درجہ حرارت 0.5 سے 2.5 ڈگری سیلسیس تک کم ہوا۔ سب سے زیادہ کمی ہنمکنڈہ میں 2.5 ڈگری اور بھدراچلم میں 2.2 ڈگری ریکارڈ کی گئی۔ حیدرآباد میں زیادہ تر بادل چھائے رہے، ٹھنڈی ہوائیں چلیں اور کہیں کہیں ہلکی بارش کا امکان رہا، جبکہ رنگاریڈی اور سنگاریڈی جیسے مغربی اضلاع بڑی حد تک خشک رہے۔
تلنگانہ کی آندھرا پردیش کو بجلی بحالی میں مدد کی پیشکش | Cyclone Arnab
نائب وزیر اعلیٰ و وزیر توانائی ملو بھٹی وکرامارکا نے آندھرا پردیش کے وزیر توانائی گوٹی پاٹی روی کمار سے بات کی اور یقین دلایا کہ بجلی کے نظام کی مرمت کے لیے ضرورت کے مطابق عملہ اور ضروری سامان فراہم کیا جائے گا۔ آندھرا پردیش کے حکام نے اس پیشکش پر تلنگانہ کا شکریہ ادا کیا۔
محکمہ موسمیات کی تازہ اطلاعات کے مطابق طوفان کا ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور یہ اندرونی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آندھرا پردیش کے کئی اضلاع میں اچانک سیلاب کا خطرہ برقرار ہے، اور حکام نے متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے گھروں میں رہنے، سفر سے گریز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور ریاستی ڈیزاسٹر فورس کی ٹیمیں بدستور تعینات ہیں۔
طوفان کے کمزور ہونے کے ساتھ اڈیشہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے کچھ حصوں میں اب بھی شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔ زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل جائزہ ابھی جاری ہے۔
