جڑچرلہ میں پانی کی قلت پر خواتین کا احتجاج | Jadcherla Water Crisis
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر کے جڑچرلہ میں پینے کے پانی کی قلت پر خواتین نے احتجاج کیا۔ پیر کو خواتین نے بلدیہ کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔ وارڈ نمبر 13 اور 23 کے رہائشیوں کو 10 دن سے مشن بھاگیرتھا کا پانی نہیں ملا تھا۔
احتجاج کرنے والی خواتین خالی پانی کی بوتلیں لے کر بلدیہ دفتر پہنچیں۔ انہوں نے بوتلیں دکھا کر اپنی مشکلات اجاگر کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی فراہمی بند ہونے سے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
پانی کی قلت پر خواتین کا دھرنا | Jadcherla Water Crisis
رپورٹ کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے پانی کی فراہمی کا مسئلہ پہلے ہی بلدیہ کے عملے کے سامنے اٹھایا تھا۔ تاہم، ان کا الزام تھا کہ متعلقہ حکام نے شکایات پر توجہ نہیں دی۔ اس لیے خواتین نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔
مظاہرین نے تقریباً 2 گھنٹے تک دھرنا جاری رکھا۔ انہوں نے دونوں وارڈوں میں پانی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے روزمرہ ضروریات کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی پر زور دیا۔
بلدیہ افسر کی یقین دہانی پر احتجاج ختم | Jadcherla Water Crisis
احتجاج کے دوران بلدیہ کے آر او سلام نے مداخلت کی۔ انہوں نے خواتین کو یقین دلایا کہ ان کی شکایات دور کی جائیں گی۔ اس یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کردیا۔
تاہم، رپورٹ میں پانی کی فراہمی بحال کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ وارڈ نمبر 13 اور 23 کے رہائشی احتجاج سے پہلے 10 دن تک پانی کی قلت کا سامنا کرتے رہے۔ اب مقامی افراد کی توجہ فراہمی کی بحالی پر مرکوز ہے۔
