جورالا کنال سے پانی چھوڑنے پر کسانوں کے خلاف مقدمات | Jurala Canal Farmers
حیدرآباد:۔ ونپرتی ضلع میں جورالا پروجیکٹ کی لیفٹ کینال کے تحت فصلیں کاشت کرنے والے کسانوں کے خلاف پولیس نے مبینہ طور پر ناقابل ضمانت مقدمات درج کیے ہیں۔ یہ مقدمات آبپاشی کے لیے پانی چھوڑنے کے مطالبے پر احتجاج کے بعد درج ہوئے۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے گزشتہ ماہ کسانوں کے لیے آبپاشی کا پانی جاری کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو اپنی فصلیں خشک ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
اسی پس منظر میں کسانوں نے 19 ستمبر کو پروجیکٹ پر احتجاج کیا۔ انہوں نے اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے حکام سے فوری پانی چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔
کسانوں نے حکام سے اپنے مطالبے پر جواب دینے کی بھی اپیل کی۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق انہیں حکام کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔
بعد ازاں اسی شام کسانوں نے جورالا پروجیکٹ کی لیفٹ کینال کے گیٹ کھول دیے۔ انہوں نے خود نہر میں پانی چھوڑ دیا۔
پانی چھوڑنے کے بعد کسانوں کے خلاف مقدمات | Jurala Canal Farmers
واقعے کے بعد محکمہ آبپاشی کے ڈپٹی ایگزیکٹیو انجینئر نے مبینہ طور پر امراچنتا پولیس سے شکایت کی۔ اس شکایت کے بعد پولیس نے کچھ کسانوں اور بعض رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق پولیس نے مقدمات کی تفصیلات خفیہ رکھی ہیں۔ پولیس نے میڈیا کو ناموں یا مقدمات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مقدمات میں شامل کسانوں اور رہنماؤں کی صحیح تعداد بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق پولیس بعض نامزد افراد کو گرفتار کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
پولیس ان افراد کو عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ حاصل کرنے کی بھی تیاری کر رہی ہے۔ اس پیش رفت سے کسانوں کے درمیان تشویش پیدا ہوئی ہے۔
جورالا پروجیکٹ کے کسانوں نے پہلے بھی آبپاشی کے پانی کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔ حکام کی جانب سے پانی نہ ملنے کے بعد انہوں نے کھڑی فصلوں کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے احتجاج کیا تھا۔
19 ستمبر کا احتجاج فوری طور پر پانی جاری کرنے کے مطالبے پر مرکوز تھا۔ حکام کی جانب سے مطالبے کا جواب نہ ملنے کے بعد کسانوں نے لیفٹ کینال کے گیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا۔
