آئی آئی ٹی حیدرآباد میں مرکیوری سمٹ | Mercury Summit
حیدرآباد:۔ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں اتوار کو مرکیوری آلودگی پر عالمی کانفرنس شروع ہوگئی۔ 17ویں بین الاقوامی کانفرنس آن مرکیوری ایز اے گلوبل پولیوٹنٹ کا آغاز ہوا۔
یہ کانفرنس 4 سے 9 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس میں سائنس دان، ماحولیاتی ماہرین اور پالیسی ساز شریک ہیں۔ تقریباً 26 ممالک کے محققین اور عالمی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
بھارت میں یہ کانفرنس پہلی بار منعقد ہورہی ہے۔ اس کانفرنس کی تاریخ 3 دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے۔ شرکا سائنسی تحقیق، ماحولیاتی نگرانی اور پالیسی اقدامات پر غور کررہے ہیں۔
کانفرنس کا مرکزی موضوع مناماتا کنونشن کی پیش رفت اور مستقبل ہے۔ شرکا زہریلے مرکیوری کے اثرات کم کرنے کی عالمی کوششوں کا جائزہ لیں گے۔ مزید برآں، وہ آئندہ دہائی کے لیے نئی حکمت عملیوں پر بھی غور کریں گے۔
مناماتا کنونشن اور پالیسی اقدامات پر توجہ | Mercury Summit
کانفرنس کا مقصد سائنسی نتائج کو عملی حکومتی پالیسیوں سے جوڑنا ہے۔ اسی دوران، شرکا مشترکہ ماحولیاتی اقدامات کے امکانات بھی تلاش کررہے ہیں۔
آئی آئی ٹی حیدرآباد کے پروفیسر آصف قریشی کانفرنس کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے مرکیوری تحقیق کو آگے بڑھانے میں کانفرنس کی اہمیت بیان کی۔ ان کے مطابق، بھارت میں انعقاد سے ایشیا اور گلوبل ساؤتھ کی شرکت مضبوط ہوگی۔
قریشی نے کہا کہ کانفرنس سے نئے بین الاقوامی تعاون کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مختلف سائنسی شعبوں کے درمیان تعاون بھی بڑھ سکتا ہے۔
کانفرنس کے شریک چیئرمین ڈاکٹر جگن ناتھ بسواکَرما نے پالیسی اقدامات پر زور دیا۔ وہ برطانوی سائنس دان اور آئی آئی ٹی حیدرآباد میں ایڈجنکٹ پروفیسر ہیں۔
بسواکَرما کے مطابق، 3 دہائیوں کی تحقیق نے مرکیوری کی منتقلی واضح کی ہے۔ تحقیق نے ہوا، پانی اور مٹی میں اس کی نقل و حرکت بھی واضح کی۔ مزید برآں، تحقیق نے غذائی زنجیروں اور انسانی صحت پر اثرات ثابت کیے ہیں۔
ان کے مطابق، صرف تحقیقی نتائج مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔ لہٰذا، حکومتوں کو سائنسی شواہد کو واضح پالیسیوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہیں عملی اقدامات کے ذریعے ان پالیسیوں پر عمل بھی یقینی بنانا ہوگا۔
مرکیوری آلودگی کے اہم ماحولیاتی خطرات زیر بحث | Mercury Summit
کانفرنس میں مرکیوری کی نقل و حرکت اور ماحولیاتی صحت پر بات ہوگی۔ ماہرین نگرانی اور ماڈلنگ کے طریقوں کا بھی جائزہ لیں گے۔ یوں، شرکا مختلف ماحولیاتی نظاموں میں مرکیوری کی منتقلی سمجھیں گے۔
خاص طور پر، کاسمیٹکس میں مرکیوری کے استعمال پر گفتگو ہوگی۔ چھوٹے پیمانے کی روایتی سونے کی کان کنی بھی زیر بحث آئے گی۔ اس کے علاوہ، تیل اور قدرتی گیس کے شعبوں سے اخراج کا جائزہ ہوگا۔
آیورویدک ادویات میں مرکیوری اور سیسے کے استعمال پر بھی بات ہوگی۔ ماہرین ان طریقوں کے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اثرات دیکھیں گے۔ یہ موضوعات ہفتہ بھر جاری رہنے والے پروگرام کا حصہ ہیں۔
کانفرنس میں آبی علاقوں میں مرکیوری آلودگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ماہرین گلیشیئرز پر اس کے اثرات کا مطالعہ بھی کریں گے۔ مزید برآں، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال پر غور ہوگا۔
منتظمین لیبارٹری تحقیق اور حکومتی پالیسی کے درمیان مضبوط روابط چاہتے ہیں۔ چنانچہ، کانفرنس سائنسی شواہد کو حکومتی حکمت عملی سے جوڑنے پر توجہ دے رہی ہے۔
یہ کانفرنس مختلف ممالک اور سائنسی شعبوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم دے رہی ہے۔ شرکا موجودہ پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران، وہ آئندہ دہائی کی ترجیحات بھی طے کریں گے۔
کانفرنس ایشیائی ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے تعاون کا موقع بھی فراہم کررہی ہے۔ محققین اور پالیسی ساز نتائج کا تبادلہ کریں گے۔ وہ مستقبل میں ممکنہ تعاون کے شعبوں پر بھی غور کریں گے۔
سائنسی تحقیق اور پالیسی مباحث کو جوڑ کر کانفرنس مشترکہ اقدامات پر زور دے رہی ہے۔ یہ ہفتہ بھر کا پروگرام 9 اکتوبر تک آئی آئی ٹی حیدرآباد میں جاری رہے گا۔
