کلیانہ لکشمی کے 12 سال مکمل | Kalyana Lakshmi Anniversary
حیدرآباد:۔ کلیانہ لکشمی اسکیم نے 12 سال مکمل کرلیے ہیں۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے اسکیم کے آغاز کو یاد کیا۔ انہوں نے غریب خاندانوں کی شادیوں میں مالی مشکلات کا ذکر کیا۔
کے ٹی آر نے ایکس پر اس حوالے سے تفصیل شیئر کی۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران ایک قبائلی خاندان کا واقعہ یاد کیا۔ اس خاندان کو اپنی بیٹی کی شادی کے لیے مالی مشکلات کا سامنا تھا۔
اسکیم کے آغاز کی پس منظر کہانی | Kalyana Lakshmi Anniversary
کے ٹی آر کے مطابق، کے چندرشیکھر راؤ نے اس خاندان کی مشکلات دیکھی تھیں۔ خاندان کے سربراہ بانوتھو کیما نائک نے شادی کے لیے رقم جمع کی تھی۔ تاہم، آگ لگنے کے واقعے میں یہ رقم اور قیمتی سامان ضائع ہوگیا۔
کے ٹی آر نے کہا کہ چندرشیکھر راؤ نے خاندان کی مدد کی۔ بعد ازاں، حکومت نے کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک اسکیمیں شروع کیں۔ دونوں اسکیموں کا مقصد غریب خاندانوں کو شادی کے اخراجات میں مدد دینا تھا۔
کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک 2 اکتوبر 2014 کو شروع ہوئیں۔ ابتدا میں کلیانہ لکشمی کا ہدف ایس سی اور ایس ٹی خاندان تھے۔ شادی مبارک اسکیم اقلیتی خاندانوں کے لیے شروع کی گئی تھی۔ بعد میں دونوں اسکیموں کا دائرہ بی سی اور ای بی سی خاندانوں تک بڑھایا گیا۔
12 سال میں لاکھوں خاندانوں کو فائدہ | Kalyana Lakshmi Anniversary
اسی دوران، کے ٹی آر نے اسکیم کے 12 سال مکمل ہونے پر مستحقین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم نے کمزور معاشی حالات والے خاندانوں کو مدد دی۔ انہوں نے شادی کے لیے قرض لینے سے بچانے کے مقصد کا بھی ذکر کیا۔
مزید برآں، کے ٹی آر نے چندرشیکھر راؤ کی فلاحی سوچ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے شادی کے موقع پر خاندانوں کے لیے مدد کو اہم قرار دیا۔ تاہم، یہ بیانات کے ٹی آر کی جانب سے اسکیم اور سابق حکومت کے کردار کی وضاحت ہیں۔
سرکاری اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، دونوں اسکیموں سے 16,78,347 مستحقین فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ان اسکیموں پر مجموعی طور پر ₹16,375.87 کروڑ خرچ ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ، حکومت نے مالی مدد کی رقم مختلف مراحل میں بڑھائی۔ ابتدا میں یہ رقم ₹51,000 تھی۔ بعد میں اسے ₹75,116 اور پھر ₹1,00,116 کیا گیا۔
یوں کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک نے 12 سال مکمل کیے۔ کے ٹی آر نے اس موقع پر اسکیم کے مقصد اور پس منظر کو دوبارہ یاد کیا۔ انہوں نے غریب خاندانوں کی شادیوں میں مالی مدد کی اہمیت پر زور دیا۔
