ہائی کورٹ کی پولیس اہلکاروں کی شناخت کی ہدایت | Assembly Gate Clash
حیدرآباد:۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ڈی جی پی سی وی آنند کو اہم ہدایت دی۔ عدالت نے اسمبلی گیٹ تنازع میں شامل پولیس اہلکاروں کی شناخت کا حکم دیا۔
یہ تنازع بی آر ایس کی خواتین ارکان اسمبلی سے متعلق ہے۔ عدالت نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی کے نامناسب رویے کا پولیس کے پاس ثبوت نہیں تھا۔ مزید برآں، عدالت نے پولیس اہلکاروں کے طرز عمل کا جائزہ لیا۔
بنچ نے تلنگانہ اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران پیش آنے والے واقعے کی سماعت کی۔ اس دوران اسمبلی گیٹ پر بی آر ایس ارکان اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ عدالت نے واقعے میں پولیس اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا۔
پولیس اہلکاروں کے کردار کی شناخت کا حکم | Assembly Gate Clash
عدالت نے ڈی جی پی کو مبینہ بدسلوکی کرنے والے اہلکاروں کی شناخت کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ، مبینہ طور پر خواتین ارکان اسمبلی پر حملہ کرنے والے اہلکاروں کی بھی شناخت کا حکم دیا۔ ڈی جی پی کو واقعے پر تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
عدالت نے رپورٹ اسمبلی اسپیکر کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔ رپورٹ کا مقصد ذمہ دار پائے جانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں مدد دینا ہے۔ یوں، عدالت نے پولیس کے کردار کی باقاعدہ نشاندہی کا راستہ کھولا۔
بنچ نے اسپیکر کے اختیار سے متعلق بھی وضاحت کی۔ عدالت کے مطابق، اگر پولیس نے اس دن اسپیکر کی ہدایات پر کارروائی کی تھی، تو اسپیکر کو مکمل اختیار ہوگا۔ وہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔
عدالت نے اس تنازع کی سماعت کے دوران اپنے سابقہ عبوری احکامات میں تبدیلی کی۔ بنچ نے اسمبلی گیٹ پر پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا۔ ان واقعات میں بی آر ایس ارکان اسمبلی، ایم ایل سیز اور پولیس اہلکار شامل تھے۔
خواتین ارکان کے خلاف پولیس دعوے پر عدالت کا مؤقف | Assembly Gate Clash
عدالت کا تازہ حکم پولیس کے خلاف عائد الزامات پر مرکوز رہا۔ بنچ نے خواتین ارکان اسمبلی کے خلاف پولیس کے دعوے کو بھی مسترد کیا۔ عدالت نے اس دعوے کے لیے معاون ثبوت نہ ہونے کی نشاندہی کی۔
یہ واقعہ بعد میں قانونی کارروائی کا موضوع بن گیا۔ اب عدالت کی تازہ ہدایات کے تحت ڈی جی پی کو متعلقہ اہلکاروں کی شناخت کرنا ہوگی۔ مزید برآں، انہیں واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی تیار کرنا ہوگی۔
ڈی جی پی کو یہ رپورٹ اسمبلی اسپیکر کے سامنے پیش کرنا ہوگی۔ رپورٹ میں واقعے اور متعلقہ پولیس اہلکاروں سے متعلق تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس کے بعد ذمہ داری طے کرنے کے لیے مزید کارروائی ہوسکتی ہے۔
تلنگانہ میں یہ عدالتی ہدایات سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث آئیں۔ تاہم، عدالت کے حکم کے مطابق، اگلا اہم مرحلہ پولیس اہلکاروں کی شناخت اور رپورٹ پیش کرنا ہے۔
