جعلی ایس ٹی سرٹیفکیٹس پر MBBS نشستیں منسوخ | Fake ST Certificates
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں جعلی ایس ٹی سرٹیفکیٹس کے باعث 9 ایم بی بی ایس نشستیں منسوخ کردی گئیں۔ کالوجی ہیلتھ یونیورسٹی کے مطابق 37 امیدواروں کے سرٹیفکیٹس جعلی پائے گئے۔
ان امیدواروں نے 2026-27 تعلیمی سال کے لیے رجسٹریشن کرایا تھا۔ ان میں سے 9 امیدوار پہلے ہی میڈیکل نشستیں حاصل کرچکے تھے۔ تاہم، یونیورسٹی نے متعلقہ کالجوں کو نشستوں کی منسوخی سے آگاہ کردیا۔
جعلی سرٹیفکیٹس کی جانچ سے معاملہ سامنے آیا | Fake ST Certificates
یہ معاملہ اس ماہ کی 22 تاریخ کو سامنے آیا۔ تلنگانہ قبائلی بہبود محکمہ کے ڈائریکٹر نے یونیورسٹی کو رپورٹ بھیجی۔ رپورٹ میں امیدواروں کے اصل سرٹیفکیٹس کی جانچ کی درخواست کی گئی تھی۔
یونیورسٹی نے NEET رینک کے ذریعے رجسٹریشن کرنے والے امیدواروں کی جانچ کی۔ اس عمل میں ST کوٹے کے 37 امیدواروں کے سرٹیفکیٹس جعلی پائے گئے۔ چنانچہ یونیورسٹی نے انہیں ST زمرے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔
متاثرہ امیدواروں میں وقارآباد گورنمنٹ میڈیکل کالج کے Bukka Visruth شامل ہیں۔ سی پیٹ آر وی ایم انسٹیٹیوٹ کے Irukula Hemadri بھی متاثر ہوئے۔ اسی دوران ESIC Medical College, Hyderabad کے Nenavath Kovida اور نووا انسٹیٹیوٹ کے Shankarapuram Rachana کے نام بھی سامنے آئے۔
Osmania Medical College میں Male Saiharshini اور Vadide Chandraharshini کی نشستیں بھی منسوخ ہوئیں۔ Patancheru Rajarajeshwari Medical College کے Kaki Nagashayana بھی متاثر ہوئے۔ مزید برآں، TRR Institute کے M Gayathri Chauhan اور Karimnagar Government Medical College کے Devarashetti Nihal Siddharth بھی فہرست میں شامل ہیں۔
9 نشستیں خالی، دوسرے مرحلے میں میرٹ سے داخلے ہوں گے | Fake ST Certificates
یونیورسٹی نے کہا کہ تمام 37 امیدوار ST زمرے میں نہیں آئیں گے۔ اس کے بجائے انہیں صرف جنرل زمرے کے تحت زیر غور لایا جائے گا۔ تاہم، 9 منسوخ نشستیں خالی قرار دی جائیں گی۔
یونیورسٹی کے مطابق ان نشستوں پر حقیقی تلنگانہ ایس ٹی طلبہ کو موقع ملے گا۔ انہیں دوسرے مرحلے کی کونسلنگ میں میرٹ کے مطابق زیر غور لایا جائے گا۔ یوں نشستوں کو مقررہ داخلہ عمل کے تحت دوبارہ پُر کیا جائے گا۔
اسی دوران یونیورسٹی نے سرٹیفکیٹ جانچ کا عمل مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنا ہے۔ مزید برآں، متعلقہ میڈیکل کالجوں کو فیصلوں سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
یہ کارروائی ان 9 طلبہ کو متاثر کرتی ہے جو نشستیں حاصل کرچکے تھے۔ باقی 28 امیدوار ST کوٹے کے تحت مزید زیر غور نہیں آئیں گے۔ لہٰذا یونیورسٹی آئندہ داخلوں میں سخت جانچ پر توجہ دے گی۔
بعد ازاں خالی نشستوں کو دوسرے کونسلنگ مرحلے میں شامل کیا جائے گا۔ یونیورسٹی نے کہا کہ اس عمل میں میرٹ کے اصول پر عمل ہوگا۔ اس طرح حقیقی ST امیدواروں کو مقررہ طریقہ کار کے تحت موقع ملے گا۔
