کارڈی اے آئی کی طویل مدتی دل کی نگرانی ٹیکنالوجی لانچ | Long Term ECG
حیدرآباد:۔ کارڈی اے آئی 26 ستمبر کو حیدرآباد میں اپنی ٹیکنالوجی لانچ کرے گی۔ کمپنی طویل مدتی ای سی جی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے گی۔ اس کا مقصد وقفے وقفے سے ہونے والی دل کی دھڑکن کی خرابیوں کا پتہ لگانا ہے۔
یہ خرابیاں مختصر دورانیے کے ٹیسٹ میں سامنے نہیں آتیں۔ تاہم، طویل نگرانی ڈاکٹروں کو دل کی سرگرمی کا وسیع ڈیٹا فراہم کر سکتی ہے۔ یوں تشخیص کے لیے مزید معلومات دستیاب ہوں گی۔
حیدرآباد میں ٹیکنالوجی کا باضابطہ تعارف | Long Term ECG
کارڈی اے آئی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل آپریشنز اور مجاز نمائندے ڈاکٹر رمنا جگلاراموڈی نے لانچ کا اعلان کیا۔ انہوں نے جمعہ کو ایف ٹی سی سی آئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر یوریشیا میڈیکل ٹیکنالوجیز ایل ایل پی کے شریک بانی ڈاکٹر راگھویندر راؤ بھی موجود تھے۔
یوریشیا میڈیکل ٹیکنالوجیز ایل ایل پی بھارت میں کارڈی اے آئی کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہی ادارہ بھارت میں ٹیکنالوجی کے باضابطہ تعارف کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ مزید برآں، یہ ادارہ مقامی طبی شعبے سے رابطہ بھی قائم کرے گا۔
یہ نظام ایک ہلکے وزن کے ای سی جی چیسٹ اسٹریپ پر مشتمل ہے۔ اس میں موبائل کنیکٹیویٹی اور اے آئی پر مبنی ای سی جی تجزیہ بھی شامل ہے۔ اس طرح مریض روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے نگرانی کرا سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کی معاونت کرتی ہے | Long Term ECG
روایتی ای سی جی دل کی سرگرمی کی مختصر تصویر فراہم کرتا ہے۔ اسی دوران، ہولٹر مانیٹر عام طور پر 24 گھنٹے تک ریکارڈنگ کرتا ہے۔ کارڈی اے آئی اس نگرانی کو زیادہ طویل مدت تک بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس نظام سے جمع ہونے والا ای سی جی ڈیٹا موبائل پلیٹ فارم کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس کے بعد اے آئی معاون تجزیہ ممکنہ دھڑکن کی خرابیوں کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، حتمی طبی فیصلہ ڈاکٹر ہی کرتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کی معاونت کرتی ہے۔ یہ طبی تشخیص یا علاج سے متعلق فیصلہ سازی کی جگہ نہیں لیتی۔ مزید برآں، اسے صارفین کے فٹنس ڈیوائس کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
کمپنی نے بتایا کہ ڈیوائس کو بھارت میں ایم ڈی-15 لائسنس حاصل ہے۔ یہ لائسنس حکومت ہند نے درآمد اور فروخت کے لیے جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیوائس کو یورپی یونین کے طبی ضوابط کے تحت سی ای مارک حاصل ہے۔
یہ پروڈکٹ یورپی یونین کے ایم ڈی آر کلاس IIa میں شامل ہے۔ اس کے مینوفیکچرنگ اور معیار کے عمل آئی ایس او 13485 کے مطابق ہیں۔ یہ معیار طبی آلات کے لیے بین الاقوامی کوالٹی مینجمنٹ نظام ہے۔
طویل نگرانی سے دل کی دھڑکن کا بہتر مشاہدہ | Long Term ECG
باضابطہ لانچ میں ماہر امراض قلب اور الیکٹروفزیالوجی کے ماہرین شریک ہوں گے۔ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اسی دوران، ہیلتھ ٹیکنالوجی ماہرین اور دیگر متعلقہ افراد بھی شریک ہوں گے۔
طبی سیشنز میں کارڈیک اریتھمیا اور اس کی تشخیص پر گفتگو ہوگی۔ مزید برآں، ماہرین طویل مدتی ای سی جی مانیٹرنگ کی طبی اہمیت بیان کریں گے۔ پروگرام میں کارڈی اے آئی کے عملی استعمال پر بھی بات ہوگی۔
ایک پینل ڈسکشن میں طویل مدتی دل کی دھڑکن کی نگرانی زیر بحث آئے گی۔ اس کے علاوہ، ریموٹ کارڈیک کیئر اور اے آئی معاون ای سی جی تجزیے پر گفتگو ہوگی۔ بعد ازاں، طبی مباحث کے بعد پروڈکٹ کا باضابطہ لانچ ہوگا۔
یہ تقریب ہفتہ، 26 ستمبر 2026 کو شام 6:30 بجے شروع ہوگی۔ تقریب دس پلہ ہوٹل، جوبلی ہلز، حیدرآباد میں منعقد ہوگی۔ اس لانچ کا مرکزی موضوع ’’سگنل سے بصیرت، صحت مند زندگی کے لیے‘‘ ہے۔
کمپنی کے مطابق صحت کا شعبہ ریموٹ مانیٹرنگ کو تیزی سے اپنا رہا ہے۔ اسی طرح، ڈیجیٹل ہیلتھ اور اے آئی معاون طبی فیصلوں کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا، طویل مدتی دل کی نگرانی پر توجہ بڑھ رہی ہے۔
ہ قلبی بیماری ملک میں اموات کی بڑی وجہ | Long Term ECG
کمپنی کے مطابق دل کی وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی بے قاعدگیاں اہم چیلنج ہیں۔ مختصر ای سی جی ایسی خرابیوں کو ہمیشہ ریکارڈ نہیں کر پاتا۔ دوسری جانب، ہولٹر مانیٹر بھی عام طور پر 24 گھنٹے تک محدود رہتا ہے۔
کارڈی اے آئی اسی فرق کو طویل نگرانی کے ذریعے پورا کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نظام سے ڈاکٹروں کو دل کی دھڑکن کا وسیع ڈیٹا ملتا ہے۔ یوں وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی شناخت میں اضافی معلومات مل سکتی ہیں۔
کمپنی نے بھارت میں قلبی امراض کو ایک اہم صحت کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ اس نے کہا کہ قلبی بیماری ملک میں اموات کی بڑی وجہ ہے۔ مزید برآں، کمپنی نے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔
کمپنی کے مطابق تقریباً 220 ملین بھارتی شہری ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 12 فیصد افراد کا بلڈ پریشر قابو میں ہے۔ اس پس منظر میں کمپنی مسلسل نگرانی کی اہمیت اجاگر کر رہی ہے۔
کارڈی اے آئی کے مطابق اس کا نظام ڈاکٹروں کو طویل مشاہدے کی سہولت دیتا ہے۔ اس سے مختصر ٹیسٹ میں چھپ جانے والی معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔ تاہم، طبی تشخیص اور فیصلہ سازی بدستور معالج کی ذمہ داری رہے گی۔
